.

ترکی: دہشت گردی پھیلانے کا الزام، 4 اساتذہ کے خلاف عدالتی کارروائی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترکی کے شہر استنبول میں کشیدہ ماحول کے بیچ اعلی سطح پر تدریس سے وابستہ 4 ترک اساتذہ کے خلاف عدالتی کارروائی کا آغاز ہوگیا۔ مذکورہ افراد نے کرد باغیوں کے خلاف کارروائیوں میں فوج کی جانب سے تشدد کی مذمت کے عریضے پر دستخط کیے تھے جس کی وجہ سے ان پر "دہشت گردی کے پروپیگنڈے" کا الزام ہے۔

گزشتہ ماہ سے حکام کے ہاتھوں گرفتار چاروں اساتذہ کو قید کی سزا کا سامنا ہے جس کی مدت 7.5 برس تک ہوسکتی ہے۔

چاروں اساتذہ پر پروپیگنڈے کا الزام ان کی جانب سے اعلانیہ طور پر "پٹیشن برائے امن" کی توثیق کے بعد عاید کیا گیا۔ اس پٹیشن میں ترکی سیکورٹی فورسز کی جانب سے زیر کرفیو متعدد شہروں میں کردستان لیبر پارٹی کے عناصر کے خلاف کارروائیوں میں "قتلِ عام" کی مذمت کی گئی ہے۔

رواں سال جنوری میں 1200 سے زیادہ ترک اور غیرملکی دانش وروں نے اس پٹیشن پر دستخط کیے تھے جس کے نتیجے میں صدر رجب طیب ایردوآن طیش میں آگئے تھے اور انہوں نے دستخط کرنے والوں کو دھمکی بھی دی کہ انہیں "اپنی غداری" کی قیمت چکانا ہوگی۔

بعد ازاں ترکی کے مختلف علاقوں میں درخواستیں دائر کی گئیں اور اس دوران 20 یونی ورسٹی پروفیسروں کو حراست میں لے لیا گیا۔ اس کے نتیجے میں ایردوآن حکومت کو شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔

گزشتہ ایک ماہ سے ملک کے جنوب مشرقی کرد اکثریتی علاقوں میں ترک سیکورٹی فورسز اور باغیوں کے درمیان خونریز معرکے جاری ہیں۔

رواں ماہ کے آغاز پر ایردوآن نے تجویز پیش کی تھی کہ کردستان لیبر پارٹی کے ساتھ تعاون کرنے والے ہر وکیل، دانش ور، صحافی اور رکن پارلیمنٹ کی ترک شہریت واپس لے لی جائے گی۔