.

شام: داعش کی جیلوں اور عدالتوں کا نظام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

23 ستمبر 2014 کو بین الاقوامی اتحاد کی جانب سے شام میں داعش کے ٹھکانوں پر حملوں کے بعد سے شدت پسند تنظیم نے "حراست کے خفیہ مراکز" کا سہارا لے لیا۔ شام میں انسانی حقوق کے نیٹ ورک کے مطابق داعش تنظیم نے 9 اپریل 2013ء کو اپنے قیام کے بعد سے مارچ 2016 تک کم از کم 6318 افراد کو گرفتار کیا۔ ان میں 713 بچے اور 647 خواتین بھی شامل ہیں۔

نیٹ ورک کے اعداد و شمار کے مطابق اسی عرصے کے دوران تنظیم کے ہاتھوں زبردستی غائب کیے جانے کیے جانے والے افراد کی تعداد کم از کم 1188 ہے جن میں 411 بچے اور 87 خواتین شامل ہیں۔

شامی نیٹ ورک نے اندازہ لگایا ہے کہ داعش کے کنٹرول میں حراست کے کم از کم 54 خفیہ مراکز ہیں۔ الرقہ صوبے میں یہ مراکز سب سے زیادہ تعداد میں 26 ہیں۔ اس کے بعد دیر الزور صوبہ 20 مراکز کے ساتھ دوسرے نمبر پر، حلب صوبہ 8 مراکز کے ساتھ تیسرے نمبر پر ہے۔ شامی نیٹ ورک نے 19 ایسے مراکز کا پتہ لگایا ہے جن میں سے بعض میں جیلیں بھی ہیں۔ ان مراکز کی تقسیم کچھ اس طرح ہے: الرقہ صوبے میں 8 مراكز ، دیر الزور صوبے میں 6 مراكز اور حلب صوبے میں 5 مراكز ہیں۔

داعش کی عدالتوں کے کام کرنے کا طریقہ کار

داعش تنظیم نے اپنی جانب سے قائم کی جانے والی عدالتوں کو شرعی عدالتوں کا نام دیا۔ تنظیم کے نزدیک وہ ان عدالتوں کے ذریعے شہری امور میں اسلامی احکام کے نفاذ کو یقینی بناتی ہے۔ ان کے علاوہ دیگر نوعیت کی عدالتیں بھی ہیں جو سیکورٹی امور کے لیے مختص ہیں۔ مثلا ان میں تنظیم کے جنگجوؤں کے خلاف شکایات سے متعلق مقدمات یا پھر تنظیم کے ان قائدین کے خلاف مقدمات نمٹائے جاتے ہیں جن کی وفاداری مشکوک ہوجاتی ہے۔

داعش تنظیم کے نظام میں عدلیہ کو تین حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے :

*شعبہ شکایات : یہ شعبہ داعش کے ذمہ داران اور جنگجوؤں کے خلاف مقدمات یا افراد کے درمیان اختلافات سے متعلق معاملات میں احکامات جاری کرنے کے لیے مخصوص ہے۔

*اسلامی عدالتیں : یہ عدالتیں داعش تنظیم کی جانب سے لاگو قوانین کی خلاف ورزیوں سے متعلق مقدمات کے لیے مخصوص ہیں۔ یہ تمام عدالتیں عراق کے شہر موصل میں مرکزی اسلامی سپریم کورٹ کی پیروری کرتی ہیں۔

*الحسبہ بیورو : یہ اسلامی عدالتوں سے جاری ہونے والے فیصلوں اور احکامات پر عمل درامد کرانے والا ایگزیکٹو ادارہ ہے۔ اس کے علاوہ یہ مذہبی تعلیمات کی مخالفت سے متعلق افراد کے جرائم کی تحقیق بھی کرتا ہے اور فرار ہونے والوں کا تعاقب بھی۔

​داعش تنظیم میں عدلیہ کے کام کی نگرانی شریعہ کونسل کرتی ہے۔ اس کا سربراہ "والی" کے نام سے جانا جاتا ہے (یہ وہ ہی ذمہ دار ہے جو ولایہ کے نام سے علاقے کی انتظامی تقسیم کی ایک اکائی کا حاکم ہوتا ہے)۔ یہ والی ایک شرعی نائب مقرر کرتا ہے جو ولایہ کی سطح پر شرعی کمیٹیوں کے کام کی نگرانی کرتا ہے۔ یہ شرعی کمیٹیاں عدالتوں اور ججوں کے کام کی نگرانی کی ذمہ دار ہوتی ہیں۔

پیچھے ذکر کیے گئے اداروں میں سے ہر ادارہ اپنی ذمہ داریوں اور نگرانی کے لحاظ سے خودمختار ہوتا ہے۔ داعش کے نظام میں بنیادی طور پر پولیس کے دو مرکزی ادارے ہیں :

پہلا ادارہ : اس کو "اسلامی پولیس" کا نام دیا جاتا ہے۔ یہ ادارہ داعش کے زیرکنٹرول علاقوں میں تنظیم اور امن عامہ کی جانب سے جاری قوانین پر عمل درامد کا ذمہ دار ہے۔ اس کی ذمہ داریوں میں سیکورٹی چیک پوسٹوں پر تلاشی، ٹریفک کی خلاف ورزیوں کے چالان جاری کرنا، لوگوں کے درمیان ذاتی اختلافات اور جھگڑوں کو نمٹانا شامل ہیں۔ اس پولیس میں ایسے افراد ہوتے ہیں جو شرعی کورسز کرچکے ہوتے ہیں اور وہ ایک مخصوص فقیہہ کو اپنی رپورٹیں پیش کرتے ہیں۔ یہ فقیہہ اپنے طور پر عدالتوں کے ججوں کے ساتھ براہ راست رابطے میں ہوتا ہے۔

دوسرا ادارہ : اس کو "الحسبہ" کا نام دیا جاتا ہے۔ یہ ادارہ مذہبی اخلاقیات کے نفاذ کا ذمہ دار ہے۔ اس سلسلے میں ادارہ آبادی میں شامل لوگوں کی جانب سے ان تمام مذہبی ہدایات پر عمل درامد کی نگرانی کرتا ہے جو تنظیم کی جانب سے عائد کی گئی ہوں۔ ادارے کی ذمہ داریوں میں نماز کے اوقات میں تجارتی سرگرمیوں کو روکنا، منشیات اور نشہ آور لوازمات کے استعمال سے متعلق اطلاعات کا جواب دینا، منوعہ اشیاء (مثلا آلات موسیقی، سگریٹس یا شرکیہ مجسمے) کو تلف کرنا شامل ہیں۔ ان کے علاوہ یہ ادارہ شرعی خلاف ورزیوں اور افعال(مثلا زنا اور بدفعلی وغیرہ) سے متعلق معاملات کی تحقیق بھی کرتا ہے اور خطرناک ترین جرائم کے معاملات کو عدالتوں تک لے کر جاتا ہے۔

داعش تنظیم نے ایسی "مذہبی شخصیات" بھی مقرر کر رکھی ہیں جو قیدیوں کی مذہبی تربیت کے لیے باری باری مرکزی جیلوں کا دورہ کرتے ہیں۔ یہ دورے قیدیوں کی رہائی سے کچھ عرصہ قبل زیادہ بڑھ جاتے ہیں۔

یقینا داعش تنظیم نے جس نظام کو اپنا رکھا ہے وہ منصفانہ قوانین سے مکمل طور پر خالی ہے۔ ان میں زیرحراست افراد کو حراست کی قانونی حیثیت پر اعتراض اور خود پر عائد الزامات جاننے کا حق، زیرحراست افراد کے لیے وکیل دفاع کی موجودگی کی اجازت اور اسی طرح کی انسانی حقوق کی دیگر خلاف ورزیاں شامل ہیں۔ داعش کی عدالتوں سے جاری سزائے موت کے احکامات انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی نمایاں ترین صورت ہے۔