.

کویت: یمنی حکومت اور حوثیوں کا جنگ بندی قائم رکھنے پر زور!

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

کویت شہر کے قصر "بيان" میں جمعہ کی شام یمنی حکومت اور باغیوں کے وفود کے درمیان بات چیت کا پہلا سیشن اختتام پذیر ہوگیا۔ یمن کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی اسماعیل ولد الشیخ احمد کی نگرانی میں مقامی وقت کے مطابق سہ پہر 3:00 بجے شروع ہونے والے اس سیشن میں شریک دونوں وفود 7 ارکان پر مشتمل تھے۔

براہ راست ہونے والی اس یمنی بات چیت میں توجہ فائربندی قائم رکھنے پر مرکوز رہی۔

پہلا سیشن امن بات چیت کے ایجنڈے کو زیربحث لانے اور اس کی توثیق کرنے، اقوام متحدہ کے نمائندے کی جانب سے اعلان کردہ پانچ نکات پر عمل درامد کے طریقہ کار کو زیربحث لانے کے لیے مشترکہ کمیٹیوں کی تشکیل کے لیے مختص کیا گیا تھا۔

اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے پہلے سیشن کے اختتام کے بعد پریس کانفرنس کا انعقاد بھی کریں گے۔

یمنی مذاکرات کا کویت میں سرکاری طور پر آغاز جمعرات کی شام ہوا تھا۔ یمنی حکومت کے وفد نے خبردار کیا تھا کہ ایجنڈے میں کسی بھی قسم کی تبدیلی کا مطلب مذاکرات کو تباہ کرنا ہوگا۔

ادھر کویت کے وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ امن عمل میں تاخیر کی قیمت یمنی عوام کو ادا کرنی پڑے گی جب کہ اقوام متحدہ کے نمائندے اسماعیل ولد الشیخ احمد نے باور کرایا ہے کہ مشاورت اقوام متحدہ کی قرارداد میں مذکور پانچ نکات کی بنیاد پر ہوگی۔

اس دوران ذرائع کو اندیشہ ہے کہ مذاکرات کا ایجنڈا ملیشیاؤں کے ہاتھ میں بارودی سرنگ نہ بن جائے جس کو نصب کر کے وہ کویت بات چیت کو ناکام بنا دیں۔

دوسری جانب عرب اتحاد نے یمن مذاکرات کے انعقاد کا خیرمقدم کرتے ہوئے متاثرہ یمنی عوام کو امدادی سامان پہنچانے کی کوششوں میں اضافے کا اعلان کیا ہے۔ اتحاد نے باور کرایا کہ وہ یمن میں فائربندی کی نگراں کمیٹیوں کے ساتھ رابطے میں ہے تاکہ کسی بھی خلاف ورزی سے نمٹا جاسکے۔