.

یورپی یونین کا داعشی جنگجوؤں سے متعلق انٹیلی جنس میں سقم پر انتباہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یورپی یونین کے انسداد دہشت گردی کے رابطہ کار نے خبردار کیا ہے کہ یورپ لوٹنے والے داعش کے جنگجوؤں کے بارے میں انٹیلی جنس کے تبادلے میں بڑے سقم موجود ہیں۔

گائلز ڈی کرچوف نے لکسمبرگ میں یورپی یونین کے وزرائے داخلہ کے اجلاس میں ایک رپورٹ پیش کی ہے۔اس میں کہا گیا ہے کہ یوروپول کو دہشت گرد جنگجوؤں کے بیرون ملک روانہ ہونے اور پھر وہاں سے لوٹنے سے متعلق ڈیٹا میں ابھی نمایاں فرق موجود ہے۔یہ جنگجو اپنے اپنے ملکوں کو واپسی پر حملے بھی کرسکتے ہیں۔

یورپی پولیس تنظیم کے ڈیٹا بیس میں 2956 غیرملکی جنگجوؤں کی تفصیل موجود ہے لیکن حکام کا کہنا ہے کہ یورپی یونین کے قریباً پانچ ہزار شہری داعش کی صفوں میں شامل ہوکر شام اور عراق لڑ رہے ہیں۔

گائلز ڈی کرچوف نے بتایا ہے کہ اس ڈیٹابیس میں 90 فی صد سے زیادہ ناموں کا اندراج 2015ء میں کیا گیا تھا اور یورپی یونین کے اٹھائیس رکن ممالک میں سے صرف پانچ ممالک نے ان کے بارے میں ڈیٹا فراہم کیا تھا۔ ایک اور ڈیٹابیس یورپی انفارمیشن سسٹم ہے۔اس میں 1615نام شامل ہیں۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ ''پیرس اور برسلز میں حملوں کے بعد ایسے اشارے ملے ہیں کہ بعض حملہ آوروں کے بارے میں پولیس پہلے سے آگاہ تھی اور ان کے بعض اور رکن ممالک میں بھی روابط تھے۔اس سے ان جنگجوؤں سے متعلق ڈیٹا فراہم کرنے کی اہمیت اجاگر ہوتی ہے۔

ایک یورپی ذریعے نے فرانسیسی خبررساں ادارے اے ایف پی کو بتایا ہے کہ بعض ممالک ڈیٹا بیس کو معلومات نہیں فراہم کررہے ہیں۔اس لیے بعض خطرناک افراد واپس آسکتے ہیں اور ان کا سراغ بھی نہیں لگایا جاسکے گا۔

لکسمبرگ میں یورپی یونین کے وزرائے داخلہ نے اپنے اجلاس میں پیرس اور برسلز میں حملوں کے تناظر میں انسداد دہشت گردی کے لیے تعاون کو بہتر بنانے کی غرض سے ذہنیت میں تبدیلی پر زوردیا ہے۔ان دونوں حملوں کے بارے میں یہ کہا گیا تھا کہ یہ داعش کے فرانس اور بیلجیئم سے تعلق رکھنے والے ایک ہی گروپ نے کیے تھے۔

یورپی یونین کے مائیگریشن اور انسداد دہشت گردی کے کمشنر دیمتریس اوراموپولس کا کہنا ہے کہ رکن ممالک کا ڈیٹابیس باہم مربوط طریقے سے منسلک ہونا چاہیے اور اس کو صرف ایک کلک سے حاصل کیا جاسکے۔