.

’ایران خطے کے دہشت گردوں کی مدد کا مرتکب ہے‘

ریاض میں امریکا ۔ خلیج سربراہ کانفرنس اختتام پذیر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب میں کل جمعرات کے روز خلیجی ممالک اور امریکا کی مشترکہ سربراہ کانفرنس اس متفقہ اعلامیے پر اختتام پذیر ہوگئی ہے کہ ایران خطے میں دہشت گردی کے فروغ کے لیے لبنانی شیعہ ملیشیا حزب اللہ اور اس جیسے دوسرے دہشت گردوں کی مدد کا مرتکب ہو رہا ہے۔

العربیہ ٹی وی کی رپورٹ کےمطابق ریاض میں ہونے والی خلیج کونسل اور امریکا کی سربراہی کانفرنس کے اختتام پر ایک مشترکہ اعلامیہ جاری کیا گیا جس میں کونسل کے رکن ممالک نے امریکا کے اشتراک سے مارچ 2017ء کو مشترکہ فوجی مشقیں کرنے، خطے میں ایرانی دہشت گردی کے حوالے سے معلومات کے تبادلے اور دہشت گردی کے خلاف مل کرجنگ جاری رکھنے سے اتفاق کیا گیا۔ اعلامیے میں دوٹوک الفاظ میں یہ واضح کردیا گیا ہے کہ ایران کے ساتھ صرف اسی صورت میں تعلقات استوار ہوسکتے ہیں بشرطیکہ تہران عرب ممالک میں مداخلت مکمل طور پر بند کرتے ہوئے دہشت گرد تنظیموں کی حمایت ترک کردے۔

خلیج۔ امریکا سربراہ کانفرنس میں کویت کی میزبانی میں یمن کے بحران کے حل کے سلسلے میں ہونے والے مذاکرات، لیبیا میں مخلوط قومی حکومت کی حمایت کے ساتھ ساتھ خلیجی ملکوں کو اندورنی اور بیرونی خطرات سے نمٹنے کے لیےایک دوسرے کی بھرپور امداد سے بھی اتفاق کیا گیا۔

اعلامیے میں شام کے ایشو پر بات کرتے ہوئے شامی عوام کے حق خود ارادیت کی حمایت کی گئی اور شام کا بحران عالمی قراردادوں کی روشنی میں حل کرنے پر زور دیا گیا۔ اجلاس میں پناہ گزینوں کے بحران کے حل کے لیے رواں سال ستمبر میں سربراہ کانفرنس کے اعلان کا خیرمقدم کیا گیا۔

قبل ازیں خلیجی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سعودی عرب کے فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے کہا کہ تمام خلیجی ممالک امریکا کے ساتھ دوستانہ اور تاریخی تعلقات کو آگے بڑھانے کے پابند ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ امریکا اور خلیجی ممالک کے درمیان تعلقات باہمی تعاون، مشترکہ مفادات، خطے اور پوری دنیا میں امن وامان کے قیام کے بنیادی اصولوں کے ساتھ مربوط ہیں۔

اجلاس سے امریکی صدر براک اوباما نے بھی خطاب کیا۔ انہوں نے کہا کہ امریکا اور خلیجی ممالک کے درمیان کئی شعبوں میں تعاون اور تعلقات کے باب میں بہتری آئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جلد ہی امریکا اور خلیجی ریاستوں کے درمیان اقتصادی تعاون کے فروغ کے لیے مذاکرات کا آغازہوگا۔

صدر باراک اوباما کا کہنا تھا کہ واشنگٹن داعش کے خلاف جنگ کے لیے عراقی حکومت سے تعاون جاری رکھے گی۔ شام کے بحران کے حل کے بارے میں انہوں نے کہا کہ شام کے مسئلے کا واحد حل پرامن طورپر انتقال اقتدار ہے۔ عالمی برادری کو مل کر شام کے بحران کے حل کے لیے ٹھوس لائحہ عمل اختیار کرنا چاہیے۔

خیال رہے کہ گذشتہ روز الدرعیہ شاہی محل میں خلیج تعاون کونسل کے سربراہان کا اجلاس شروع ہوا۔ اجلاس کی صدارت سعودی فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے کی۔ بعد ازاں اجلاس میں امریکی صدر براک اوباما بھی شریک ہوئے۔ اجلاس میں شریک رہ نماؤں نے خطے میں بڑھتی ایرانی مداخلت پر کھل کر اظہار خیال کیا۔

شاہ سلمان کی اجلاس میں آمد پر تمام خلیجی رہ نماؤں کے ساتھ ان کی یادگار تصاویر بھی بنوائی گئیں۔ اجلاس میں سعودی عرب کے ولی عہد شہزاہ محمد بن نایف، نائب ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان، امریکا میں سعودی عرب کے سفیر شہزادہ عبداللہ بن فیصل بن ترکی، وزیر مملکت ڈاکٹر مساجد بن محمد العیبان، وزیرخارجہ عادل الجبیر، جنرل انٹیلی جنس چیف خالد بن علی الحمیدان اور خلیجی ممالک کے سربراہان نے شرکت کی۔