.

اسرائیلی عہدیداروں کے حرم قدسی داخلے پر پابندی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیلی پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے یہودیوں کے مذہبی تہوار’عید الفصح‘ کی سات روزہ تقریبات کے دوران اسرائیلی ارکان پارلیمنٹ، وزراء اور دیگراہم شخصیات کے مسجد اقصیٰ میں داخلے پر پابندی عاید کردی ہے۔

اسرائیلی پولیس کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ عید الفصح کے ایام میں امن وامان کی صورت حال کے پیش نظر کوئی اہم حکومتی عہدیدار یا سیاسی رہ نما حرم قدسی میں داخل نہیں ہوسکے گا۔

خیال رہے کہ اسرائیلی پولیس کی جانب سے حکومتی عہدیداروں اور اہم شخصیات کے قبلہ اول میں داخلے پر پابندی ایک ایسے وقت میں لگائی گئی ہے جب اسرائیل کے انتہا پسند گروپ مسجد اقصیٰ میں اشتعال انگیزی پھیلانے کی کوشش کررہے ہیں۔ فلسطینیوں کا کہنا ہے کہ اسرائیل کے حکومتی عہدیدار، سیاسی رہ نما حتیٰ کہ فوجی عہدیدار بھی قبلہ اول میں اشتعال انگیزی میں ملوث ہیں۔ اسرائیل ایک عرصے سے مسلمانوں کے تیسرے مقدس ترین مقام پراپنی بالادستی کی کوشش میں ہے اور یہ کشمکش وقت کے ساتھ ساتھ شدت اختیار کرتی جا رہی ہے۔

اسرائیلی پولیس کے ترجمان میکی روزنفلڈ نے جمعہ کے روز جاری کردہ ایک بیان میں کہا کہ یہودیوں کی عید الفصح کی آٹھ روزہ تقریبات کے دوران ارکان پارلیمنٹ اور وزراء کو حرم قدسی میں داخل ہونے کی اجازت نہیں ہوگی۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ یہ فیصلہ امن وامان کی صورت حال کے تناظر میں کیا گیا ہے تاہم ان کا کہنا تھا کہ عام یہودی سیاح اور زائرین کے اخلے اور حرم قدسی میں عبادت کی ادائی پرکوئی پابندی عاید نہیں ہوگی۔

یہودیوں کے مذہبی تہوار کے موقع پر بیت المقدس کے پبلک مقامات، بس اڈوں، تجارتی مراکز اور عبادت گاہوں کے قریب 3500 اضافی فوجی تعینات کیے گئے ہیں۔

اسرائیلی پولیس کی ایک دوسری خاتون ترجمان لوبا السمری کا کہنا ہے کہ کل جمعہ کو حرم قدسی میں یہودیوں کے مذہبی تہوار کی مناسبت سے جانوروں کی قربانی دینے کی کوشش کے الزام میں سات یہودیوں کو حراست میں لیا گیا ہے۔

خیال رہے کہ یہودیوں کے مذہبی تہوار ’’عیدالفصح‘‘ کے موقع پر دسیوں ہزار یہودی مشرقی بیت المقدس اور دیوار گریہ [دیوار براق] کا رخ کرتے ہیں۔ اسرائیلی فوج نے عیدالفصح کے موقع پر مقبوضہ مغربی کنارے اور غزہ کی پٹی کے شہریوں کی آمدورفت بھی محدود کردی ہے۔ ان علاقوں سے کوئی فلسطینی مسجد اقصیٰ کی طرف نہیں آسکتا۔