.

ہمارے بغیر جنیوا مذاکرات ڈھونگ ہیں: شامی اپوزیشن

شام کی حزب اختلاف کا روس کو دو ٹوک جواب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

جنیوا میں شام کے بحران کے حل کے سلسلے میں ہونے والی بات چیت ایک بار پھر ناکام ہوتی دکھائی دے رہی ہے کیونکہ شامی حزب اختلاف نے جنگ بندی اور مذاکرات کی شرائط پوری نہ کیے جانے پر بہ طور احتجاج مذاکرات کا بائیکاٹ کیا ہے۔ شامی حزب اختلاف کی نمائندہ سپریم نیشنل کونسل کے چیئرمین اورمذاکرات کار جارج صبرا نے واضح کیا ہے کہ ان کے بغیر کسی قسم کے مذاکرات نہیں ہوسکتے ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق جارج صبرا نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ سپریم نیشنل کونسل کے سوا شام کا اور ایسا کوئی بھی گروپ نہیں جسے شامی اپوزیشن کا نمائندہ قرار دے کران سے بات چیت کی جائے۔ جب تک وہ مذاکرات میں شامل نہیں ہوتے اس وقت تک بات چیت محض ڈھونگ ہوگی۔

قبل ازیں شام کے لیے اقوام متحدہ کے امن مندوب اسٹیفن دی میستورا اور روسی وزیرخارجہ سیرگی لافروف نے کہا تھا کہ مذاکرات کا بائیکاٹ کرکے شامی اپوزیشن نے خود اپنا نقصان کیا کی ہے۔ اس کے جواب میں شامی اپوزیشن نے کہا ہے کہ شامی حکومت اور اس کے حواری روسی اور ایرانی ملک میں نہتے شہریوں پر مظالم جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ان جرائم کے تسلسل میں کوئی بات چیت کامیاب نہیں ہوسکتی۔

جمعہ کے روز روسی وزیرخارجہ لافروف نے کہا تھا کہ شامی حزب اختلاف کے مذاکرات کاروں کا جنیوا مذاکرات کے بائیکاٹ کا فیصلہ افسوسناک ہے مگر اس کے نقصان اپوزیشن ہی کو ہوگا جب کہ یو این ایلچی دی مستورا کا کہنا تھا کہ مذاکرات آئندہ ہفتے دوبارہ شروع ہوں گے۔

خیال رہے کہ شام کے بحران کے حل کے سلسلے میں جنیوا میں ہونے والے مذاکرات جمعرات کے روز اس وقت ڈیڈ لاک کا شکار ہوگئے تھے جب شامی اپوزیشن کے نمائندہ مذاکراتی وفد نےملک میں اسدی فوج کی بمباری سے شہریوں کی ہلاکتوں پر بہ طور احتجاج بات چیت کا بائیکاٹ کردیا تھا۔ اس موقع پر شام کی مذاکراتی ٹیم کے سینیر رکن محمد علوش کا کہنا تھا کہ بامقصد مذاکرات سے قبل شام میں اسدی فوج کو نہتے شہریوں کے قتل عام کا سلسلہ بندکرتے ہوئے حراست میں لیے گئے ہزاروں افراد کو رہا کرنا ہوگا۔

محمد علوش نے حکومتی نمائندے بشارالجعفری کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اگر وہ ملک میں حقیقی قومی حکومت کے قیام میں سنجیدہ ہیں تو انہیں جیلوں میں ڈالی گئی ہزاروں خواتین اور مردوں کو رہا کرنا ہوگا۔