.

’ایف بی آئی‘ نے آئی فون ہیکنگ کے لیے 13 لاکھ ڈالرادا کیے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا کے وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف بی آئی کے ڈائریکٹر جیمز کومی نے کہا ہے کہ ان کے ادارے نے سان برنارڈینو کے حملہ آور سید رضوان فاروق کا آئی فون کا لاک کھولنے کے لیے ایک ملین ڈالر سے زاید رقم ادا کی ہے اور یہ اس کام کے لیے اتنی زیادہ بھی نہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ رقم ان کی بقیہ مدت ملازمت کے سات سال اور چار ماہ کی آمدن سے زیادہ ہے۔

ایف بی آئی اور امریکی دفتر برائے مینجمنٹ اور بجٹ کے اعداد و شمار کے مطابق جیمز کومی کی ماہانہ تنخواہ 14 ہزار 900 ڈالر ہے جب کہ جنوری 2015 سے سالانہ تنخواہ 183,300 امریکی ڈالر بنتی ہے۔ ان کاکہنا ہے کہ پچھلے سال امریکی شہر سان برنارڈینو میں فائرنگ کرکے ایک درجن سے زاید امریکیوں کو ہلاک کرنے والے سید فاروق کے آئی فون کا خفیہ کوڈ توڑنے کے لیے 13 لاکھ ڈالر ادا کیے گئے تاہم فون کو ہیک کیے جانے کے نتائج ابھی تک سامنے نہیں آئے ہیں۔

خیال رہے کہ پچھلے برس دسمبر کے اوائل میں پاکستانی نژاد سید فاروق اور اس کی اہلیہ تاشفین ملک نے ریاست کیلفورنیا کے شہر سان برنارڈینو میں اندھا دھند فائرنگ کرکے 14 فراد کو ہلاک کردیا تھا۔ پولیس نے تعاقب کرتے ہوئے دونوں حملہ آور میاں بیوی کو بھی گولیاں مارکر قتل کردیا تھا اور سید فاروق کا آئی فون قبضے میں لے لیا تھا۔

اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایف بی آئی نے کسی بھی ہیکنگ تکنیک کے لیے سب سے زیادہ رقم ادا کی ہے۔ اس سے قبل سب سے زیادہ رقم دس لاکھ ڈالر پر مشتمل تھی جو امریکا کی انفارمیشن سکیورٹی کمپنی زیرو ڈیم نے فون کھولنے کے لیے ادا کی تھی۔

امریکی حکام نے سید فاروق کے آئی فون کا خفیہ کوڈ کھلوانے کے لیے ’ایپل‘ کمپنی کے خلاف عدالت سے بھی رجوع کیا تھا تاہم کمپنی نے یہ کہہ کر ایف بی آئی کا مطالبہ مسترد کردیا تھا کہ اس سے لاکھوں صارفین کی پرائیویسی متاثر ہوسکتی ہے۔ عالمی سرچ انجن گوگل اور سماجی رابطے کی ویب سائیٹ ’فیس بک‘ نے بھی آئی فون کے موقف کی تائید کی تھی۔

حال ہی میں ایف بی آئی کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ وہ سید فاروق کا آئی فون ایک تیسرے فریق کی معاونت سے فون کھولنے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔

جیمز کومی کا کہنا تھا کہ ایف بی آئی سان برنارڈینو کے آئی فون پر استعمال کیا گیا سافٹ ویئر ’آئی او ایس 9 ‘ استعمال کرنے والے دیگر 5C آئی فونز پر بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔