.

افغان صدر کا پاکستان سے طالبان کے خلاف جنگ کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

افغان صدر اشرف غنی نے پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ طالبان کے بعض دھڑوں کو مذاکرات کی میز پر لانے کے بجائے ان کے خلاف جنگ لڑے۔

وہ سوموار کے روز دارالحکومت کابل میں افغان پارلیمان میں تقریر کررہے تھے۔انھوں نے یہ بیان کابل میں طالبان کے تباہ کن حملے کے ایک ہفتے کے بعد جاری کیا ہے۔اس حملے میں چونسٹھ افراد ہلاک اور تین سو چالیس زخمی ہوگئے تھے۔ انھوں نے کہا کہ ''افغانستان کو پاکستان میں موجود طالبان ''غلاموں'' کی سربراہی میں ایک دہشت گرد دشمن کا سامنا ہے''۔

انھوں نے اس کے باوجود طالبان کو مذاکرات کی بھی پیش کش کی ہے اور کہا ہے کہ ان طالبان کے لیے دروازے کھلے رکھے جائیں گے جو خونریزی کو روکنے کے لیے تیار ہیں لیکن یہ موقع ہمیشہ کے لیے دستیاب نہیں رہے گا۔

افغان صدر نے کہا:''پشاور اور کوئٹہ میں پناہ حاصل کرنے والے طالبان لیڈر ''غلام'' اور افغانستان کے دشمن ہیں جو اپنے ہی ہم وطنوں کا خون بہا رہے ہیں۔انھوں نے پاکستان سے مطالبہ کیا کہ وہ ان کا قلع قمع کرے''۔

تاہم انھوں نے ملک میں قومی ہنگامی حالت کے نفاذ کا اعلان نہیں کیا ہے۔انھوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ داعش اور حقانی نیٹ ورک ایسے گروپوں کے خلاف جنگ جاری رکھی جائے گی۔

اشرف غنی نے اس امر کی وضاحت نہیں کی ہے کہ طالبان کس کے غلام ہیں لیکن ان کے پیش رو صدر حامد کرزئی پاکستان پر سیدھے سبھاؤ طالبان جنگجوؤں کو پناہ دینے کے الزامات عاید کرتے رہتے تھے۔

پاکستان افغان گروپوں کو پناہ دینے کی تردید کرتا چلا آرہا ہے مگر اس کے باوجود افغان صدر نے پاکستانی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ان افغان جنگجو گروپوں کے خلاف کارروائی کرے ،جنہوں نے پاکستان میں اپنے ٹھکانے بنا رکھے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ''کوئی اچھے یا برے دہشت گرد نہیں ہیں ،بلکہ وہ صرف دہشت گرد ہیں۔پاکستان کو اس بات کو سمجھنا چاہیے اور ان کے خلاف کارروائی کرنی چاہیے''۔

افغان طالبان نے صدر اشرف غنی کی اس تقریر کے جواب میں اپنے سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے۔طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے ایک ٹویٹ میں لکھا ہے کہ ''قوم اندھی نہیں ہے۔لوگ جانتے ہیں کہ کون غلام ہے اور کون دوسروں کے مفادات کے لیے کام کررہا ہے''۔