.

امریکا حزب الله کو "عالمی" جرائم پیشہ تنظیم قرار دے گا!

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا میں لبنانی تنظیم حزب اللہ کی مجرمانہ سرگرمیوں بالخصوص منشیات کی تجارت اور منی لانڈرنگ سے متعلق ایک رپورٹ جاری کرنے کی تیاریاں ہو رہی ہیں، اس رپورٹ کا مطالبہ کانگریس کی جانب سے کیا گیا تھا۔

رپورٹ میں ان جرائم کو بنیاد بنایا گیا ہے جن کی تحقیقات انسداد منشیات کی امریکی انتظامیہ اور وزارت مالیات نے کی تھیں۔ خاص طور پر "کیسنڈرا" کے نام سے معروف منصوبہ جس کا مقصد حزب اللہ کے زیرانتظام عالمی نیٹ ورک کا کھوج لگانا ہے۔ یہ نیٹ ورک امریکا اور یورپ میں کوکین کی بھاری مقدار کی تقسیم اور تجارت کے علاوہ منی لانڈرنگ اور اسلحے کی تجارت میں بھی ملوث ہے۔

یہ رپورٹ اس بات میں بنیادی عامل ہوگی کہ آیا حزب اللہ ملیشیا کو "سرحد پار جرائم پیشہ تنظیم" قرار دیا جائے۔ اس امر کی بنیاد پر حزب اللہ کے خلاف مزید اقدامات اور پابندیاں عمل میں آئیں گی۔

گزشتہ برس حراست میں لیے جانے والے جوزف الاسمر (42 سالہ) اور ایمان قبیسی (50 سالہ) نے دنیا بھر میں کم از کم 10 ممالک میں حزب اللہ کے مجرمانہ رابطوں کا حوالہ دیا تھا۔

لیٹوینا سے لے کر کولمبیا تک متعدد ممالک میں حزب اللہ کی مجرمانہ کارروائیوں کے سہولت کاروں کا تعاقب کر کے انہیں گرفتار کیا گیا۔ ان کے علاوہ دیگر افراد کا امریکی وزارت خزانہ کی فہرست میں اندراج کیا گیا جن میں تاجر شخصیت قاسم حجيج، حزب اللہ کی "خارجہ سیکورٹی تنظیم" کے رکن حسين علی فاعور اور عبدالنور شعلان شامل ہیں۔

اس کے ساتھ ساتھ اسعد برکات کے مالی جرائم کے ارتکاب اور دہشت گردی کے لیے مالی رقوم کی ضمانت کے سلسلے میں فرضی کمپنیوں کے استعمال کی بھی تحقیقات کی گئیں۔ برکات نے جنوبی امریکا میں حسن نصر اللہ کے ذاتی نمائندے کی حیثیت سے ذمہ داریاں سرانجام دیں۔

آگے چل کر کانگریس کو رپورٹ کے مندرجات سے مطلع کیا جائے گا جس کے بعد امریکی انتظامیہ حزب اللہ کو "سرحد پار بڑی جرائم پیش تنظیموں" کی فہرست میں درج کرے گی اور اس کے بعد تنظیم کے خلاف انسدادی اور تعاقب کے اقدامات عمل میں لائے جائیں گے۔