.

برطانوی شہری خلاء سے میراتھن میں شرکت کرنے والی پہلی شخصیت !

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

برطانوی شہری " ٹم پیک" نے اتوار کے روز ایک منفرد حوالے سے اپنا نام اس وقت تاریخ کے صفحات میں درج کروا لیا جب وہ 42 کلومیٹر فاصلے کی بین الاقوامی میراتھن میں خلاء سے شرکت کرنے والے پہلے خلاباز بن گئے۔ پیک نے زمین سے 402 کلومیٹر کی بلندی پر یہ پورا فاصلہ ایک خلائی اسٹیشن کے اندر طے کیا۔ اتوار کے لندن میں روز منعقدہ میراتھن ریس میں دنیا کے مختلف ممالک کے تقریبا 38 ہزار افراد نے شرکت کی۔

ٹم پیک نے 42 کلومیٹر کا فاصلہ بنا کسی توقف کے 3 گھنٹے 35 منٹ اور 21 سیکنڈ میں مکمل کیا۔ ادھر لندن میں ہونے والی زمینی میراتھن ریس کینیا کے Eliud Kipchoge نے جیت لی۔ انہوں نے یہ فاصلہ 2 گھنٹے 3 منٹ اور 5 سیکنڈ میں طے کر کے 2014 میں اپنے ہم وطن کھلاڑی کے قائم کردہ ریکارڈ کو ایک منٹ سے زیادہ کے فرق سے توڑ دیا۔ تاہم وہ 8 سیکنڈ کی تاخیر کے سبب عالمی ریکارڈ نہ توڑ سکے۔ دوسری جانب خواتین کی میراتھن ریس بھی کینیا کی جمیما سامگونگ نے جیت لی۔

خلا میں کشش ثقل کے بغیر دوڑنے کے لیے پیک نے "حفاظتی بیلٹ" کا استعمال کیا جس کے نتیجے میں دوڑنے والی مشین (ٹریڈمل) پر ان کا توازن برقرار رہا۔ "العربیہ ڈاٹ نیٹ" کی پوسٹ کردہ وڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ پیک کی کمر اور کندھوں کے گرد الاسٹک کی پٹیاں بندھی ہوئی ہیں جس سے وہ جم کر مشین پر دوڑنے میں کامیاب نظر آ رہے ہیں۔ ٹم پیک نے کچھ روز قبل اپنے ٹوئیٹس میں کہا تھا کہ بیلٹ کے ساتھ دوڑنا ایک بہت بڑا چیلینج ہے ہوگا اس لیے کہ ان کے جسم کو ٹریڈ مل کے ساتھ اچھی طرح سے جڑا رہنا چاہیے۔ اس سے قبل ٹم پیک نے 1999ء میں لندن میں زمینی میراتھن میں حصہ لیا تھا اور مقررہ فاصلہ 3 گھنٹے 18 منٹ اور 50 سیکنڈ میں طے کیا تھا۔

ٹم پیک روں سال جون میں زمین پر واپس آئیں گے۔ واضح رہے کہ خلا میں ان کی دوڑ کے دوران بین الاقوامی خلائی اسٹیشن زمین کے گرد 28,800 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے گھوم رہا تھا۔