.

ترکی کے شام میں حملوں میں 900 داعشی جنگجو ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترکی کی مسلح افواج نے جنوری کے بعد شام میں زمینی اور فضائی حملوں میں سخت گیر جنگجو گروپ داعش کے کم سے کم نو سو ارکان کو ہلاک کردیا ہے۔

ترکی کی سرکاری خبررساں ایجنسی اناطولیہ نے سوموار کو فوجی ذرائع کے حوالے سے ان ہلاکتوں کی اطلاع دی ہے اور بتایا ہے کہ ترک فضائیہ نے 9 جنوری کے بعد شام میں فضائی حملوں میں داعش کے 492 ''دہشت گردوں'' کو ہلاک کیا ہے اور 370 توپ خانے سے گولہ باری میں مارے گئے ہیں۔ان حملوں میں داعش کے اسلحہ ڈپوؤں کو بھی تباہ کردیا گیا ہے۔

لیکن اناطولیہ کے فراہم کردہ ان اعداد وشمار کی آزاد ذرائع سے تصدیق ممکن نہیں ہے۔ترکی امریکا کی قیادت میں داعش مخالف اتحاد کا حصہ ہے۔اس نے گذشتہ سال موسم گرما میں شام میں داعش کے خلاف فضائی حملوں کا آغاز کیا تھا۔

ترکی نے اپنے جنوبی شہر عدنہ میں واقع انچرلیک فضائی اڈے کو بھی امریکا کو استعمال کرنے کی اجازت دے رکھی ہے اور امریکی لڑاکا طیارے وہیں سے اڑ کر شام میں داعش کے جنگجوؤں کو اپنے فضائی حملوں میں نشانہ بنا رہے ہیں۔

ترکی گذشتہ سال جولائی میں شام کی سرحد کے نزدیک واقع قصبے سورچ میں خودکش بم دھماکے کے بعد داعش مخالف فضائی مہم میں شامل ہوا تھا۔اس بم دھماکے میں چونتیس افراد ہلاک ہوگئے تھے۔داعش نے اس خودکش حملے کی ذمے داری قبول کی تھی اور اس نے استنبول میں بھی حال ہی میں خودکش بم دھماکوں کی ذمے داری قبول کی ہے۔

حالیہ ہفتوں کے دوران ترکی کے سرحدی قصبے کیلیس میں بھی شام کے سرحدی علاقے سے متعدد مرتبہ راکٹ باری کی جاچکی ہے۔شام کے اس شمال مغربی علاقے میں داعش کا کنٹرول ہے اور اسی کے جنگجو ترک علاقے کی جانب راکٹ چلاتے رہتے ہیں۔