.

حوثیوں کو کویت مذاکرات کے شیڈول پر دستخط کی مہلت ختم

کویت میں ہونے والی بات چیت میں کوئی پیش رفت نہ ہوسکی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

خلیجی ریاست کویت کی میزبانی میں ایک ہفتے سے جاری یمن کے بحران پر بات چیت کسی نتیجے تک پہنچے بغیر ختم ہوگئی ہے۔ دوسری جانب یمن کے لیے اقوام متحدہ کےامن مندوب اسماعیل ولد الشیخ احمد نے حوثی باغیوں کو آج سوموار کی صبح تک مذاکراتی شیڈول پر دستخط کرنے کی آخری مہلت دی ہے۔

العربینہ چینل کے نامہ نگار نے بتایا کہ یمنی حکومت اور باغیوں کے درمیان صبح کے وقت ہونے والا اجلاس کسی پیش رفت کے بغیر اختتام پذیر ہوگیا۔ فریقین اختلافی مسائل کے حل کے حوالے سے کسی فریم ورک تک پہنچنے سے قبل ہی اجلاس سے اٹھ کر چلے گئے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ کویت کی میزبانی میں ہونے والی بات چیت میں حوثی باغی اپنے موقف پر ہٹ دھرمی سے قائم ہیں۔ اہم نوعیت کے مسائل کے حل کے بجائے وہ غیرضروری اور ثانوی درجے کے تنازعات میں الجھ گئے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ مذاکرات کا ایجنڈا آگے نہیں بڑھایا جاسکا ہے۔

گذشتہ روز صبح کے وقت ہونے والے اجلاس میں ملک میں حوثی ملیشیا اور مںحرف سابق صدر علی عبداللہ صالح کی وفادار ملیشیا کے ہاتھوں جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کے بارے میں ایک رپورٹ بھی پیش کی گئی۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ علی صالح اور حوثی باغیوں کی جانب سے گذشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران 127 بار جنگ بندی کی خلاف ورزیاں کی گئی ہیں۔ باغیوں کی جانب سے الجوف گورنری میں 50، مآرب میں 39، تعز میں 22، البیضاء میں 11 اور شبوہ میں 5 بار جنگ بندی کی خلاف ورزی کی گئی۔ باغیوں کے راکٹ حملوں اور فائرنگ کے نتیجے میں کم سے کم 8 شہری مارے گئے۔

یورپی یونین کےایک سفارتی ذریعے نے العربیہ کو بتایا کہ کویت میں تین روز سے جاری مذاکرات میں باغیوں نے کسی قسم کی لچک کا مظاہرہ نہیں کیا بلکہ وہ اپنی ہٹ دھرمی پر بدستور قائم ہیں جس کے نتیجے میں مذاکرات میں کسی قسم کی پیش رفت نہیں ہو رہی ہے۔ْ

ذرایع کے مطابق اجلاس کے آخری سیسشن میں فریقین نے جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کی روک تھام کے لیے فالو اپ کمیٹیوں کی خاطر اپنے نمائندے مقرر کرنے سے اتفاق کیا ہے۔

ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ گذشتہ روز ہونے والی بات چیت میں کشیدگی کا عنصر نمایاں رہا اور فریقین ایک دوسرے پر جنگ بندی توڑنے کے الزامات کے ساتھ ساتھ اختلافات کو ہوا دینے کا بھی الزام عاید کرتے رہے۔ حکومت کی جانب سے شریک مذاکرات وفد نے باغیوں کی طرف سے جنگ بندی کی پابندی پر زور دیا گیا اور کہا گیا ہے کہ اب تک مذاکرات کے جتنے بھی ادوار ہوئے ہیں وہ باغیوں کی ہٹ دھرمی کے نتیجے میں ناکام سے دوچار ہوئے۔

خیال رہے کہ گذشتہ برس دسمبر کے بعد یمن کے بحران کے حل کے لیے مذاکرات کے تین ادوار ہوچکے ہیں۔ مگران میں کوئی اہم پیش رفت نہیں ہوئی ہے۔

یمن کی سرکاری مذکراتی کمیٹی کے رکن مانع المطری نے مشترکہ سیاسی اور سیکیورٹی قیام کی تشکیل سے متعلق خبروں کی تردید کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ فی الحال ایک ہی کمیٹی موجود ہے جو جنگ بندی کو برقرار رکھنے کے لیے باغیوں اور حکومتی فورسز کے درمیان رابطے کا کام کررہی ہے۔

ذرائع کاکہنا ہے کہ اقوام متحدہ کے امن مندوب کی جانب سے یمن کےبحران کے حل کے لیے ہونے والی بات چیت میں سعودی عرب کے کردارکی تعریف کی ہے۔ مگر ساتھ ہی انہوں نے خبردار کیا ہے کہ فریقین نے سنجیدگی کا مظاہرہ نہ کیا اور کشیدگی کا ماحول برقرار رکھا تو جنگ بندی ٹوٹ سکتی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ تین روز سے جاری بات چیت کا آخری دن زیادہ ناخوش گوار گذرا جس میں بات چیت میں کسی پیش رفت کے بجائے نئے تنازعات بھی سر اٹھاتے رہے۔