.

کویت :یمن کے متحارب فریقوں میں اختلافات بدستور موجود

حکومت اور حوثی شیعہ باغی جنگ بندی برقرار رکھنے کے خواہاں ہیں: اقوام متحدہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن کے متحارب فریقوں نے سوموار کو کویت میں مسلسل پانچویں روز امن مذاکرات میں شرکت کی ہے لیکن ان میں اختلافات کی گہری خلیج پاٹی نہیں جاسکی ہے اور اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی برائے یمن اسماعیل ولد شیخ احمد نے بھی اس جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ متحارب فریقوں میں نمایاں اختلافات بدستور موجود ہیں۔

اقوام متحدہ کے ایک ترجمان نے کہا ہے کہ حوثی شیعہ باغیوں اور حکومت کے درمیان اتوار کو سکیورٹی اور سیاسی اور انسانی امور پر تفصیلی بات چیت ہوئی تھی لیکن ان کے نقطہ نظر میں نمایاں فرق موجود ہے۔البتہ ان میں امن کی ضرورت اور اس کے لیے ایک سمجھوتے کے حوالے سے اتفاق رائے پایا جاتا ہے۔

حوثی اور حکومتی نمائندے ملک میں 11 اپریل سے جاری جنگ بندی کو برقرار رکھنے کے لیے بھی کوشاں ہیں۔اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی نے بتایا ہے کہ حوثیوں اور حکومت کے نمائندوں نے دو عہدے دار مقرر کرنے سے اتفاق کیا ہے۔ان میں دونوں فریقوں کا ایک ایک عہدے دار ہوگا اور وہ جنگ بندی کو برقرار رکھنے سے متعلق اپنی اپنی تجاویز پیش کریں گے۔

حکومتی وفد کا اصرار تھا کہ جنگ بندی میں اعتماد کی فضا بحال کرنے والے اقدامات بھی شامل ہونے چاہییں اور ان کے تحت تمام محصور علاقوں تک محفوظ راستے کھولے جائیں اور قیدیوں کا رہا کیا جائے۔

ایران کے حمایت یافتہ حوثی باغی سعودی عرب کی قیادت میں عرب اتحاد کے فضائی حملوں کو فوری طور پر روکنے کا مطالبہ کررہے ہیں۔سعودی اتحاد گذشتہ سال مارچ سے یمنی صدر عبد ربہ منصور ہادی کی حمایت میں باغیوں کے خلاف یہ حملے کررہا ہے۔

حکومتی وفد کے سربراہ یمنی وزیر خارجہ عبدالملک آل مخلافی نے مذاکرات کو لاحاصل قراردیا ہے اور باغیوں پر الزام عاید کیا ہے کہ وہ بنیادی امور پر گفتگو سے کترا رہے ہیں۔انھوں نے اپنے فیس بُک صفحے پر لکھا ہے کہ باغیوں کا وفد متعدد مرتبہ اپنی پیش کردہ تجاویز سے منحرف ہوچکا ہے۔

حوثی باغیوں کا اس بات پر اصرار ہے کہ عرب اتحاد کے فضائی حملوں کے رُکنے تک کوئی جنگ بندی نہیں ہوسکتی ہے جبکہ عرب اتحاد کا کہنا ہے کہ اس کو حوثیوں کی جانب سے جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کا فضائی حملوں کی صورت میں جواب دینے کا حق حاصل ہے۔

طرفین میں مختلف بنیادی ایشوز کو طے کرنے کے حوالے سے بھی اختلافات پائے جاتے ہیں۔یمنی حکومت حوثیوں کے دارالحکومت صنعا سمیت زیر قبضہ تمام علاقوں سے انخلاء اور ہتھیار ڈالنے سے نتیجہ خیز مذاکرات کا آغاز چاہتی ہے جبکہ باغی یہ چاہتے ہیں کہ پہلے قومی اتحاد کی حکومت کے قیام کے لیے سیاسی عمل شروع کیا جائے اور اس کے بعد ہی انخلاء اور ہتھیار ڈالنے پر بات چیت کی جاسکتی ہے۔