.

القاعدہ، داعش، حوثیوں اور علی صالح کا گٹھ جوڑ ہے: ھادی

سلامتی کونسل باغیوں کو قرارداد 2216 کا پابند بنائے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن کے صدر عبد ربہ منصور ھادی نے کہا ہے کہ دہشت گردی اور انتہا پسندی یمنی سماج کی رگوں میں داخل کردی گئی ہے مگر حکومت پوری طاقت کے ذریعے انتہا پسندی کچل دے گی۔ ان کا کہنا ہے کہ دہشت گرد دولت اسلامی داعش، القاعدہ، یمن کے حوثی باغیوں اور مںحرف سابق صدر علی عبداللہ صالح کے درمیان گہرا گٹھ جوڑ ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق صدر عبد ربہ منصور ھادی نے ان خیالات کا اظہار ایک اعلیٰ سطحی مشاورتی اجلاس سے خطاب میں کیا۔ اجلاس میں نائب صدر جنرل علی مھسن الاحمر، وزیراعظم احمد بن دغر اور دیگرموجود تھے۔ انہوں نے عالمی برادری اور اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا کہ وہ حوثیوں کو یمن میں امن وامان کے حوالے سے منظور کردہ سلامتی کونسل کی قرارداد 2216 کا پابند بنائے۔

صدر ھادی کا کہنا تھا کہ باغی مذاکرات سے راہ فرار اختیار کررہے ہیں۔ باغیوں کو محاذ جنگ پر شرمناک ہزیمت کا سامنا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے کویت میں ہونے والی امن بات چیت میں رنگ میں بھنگ ڈالنے کی ناکام کوشش کی ہے۔

صدر منصور ھادی کا کہنا تھا کہ حوثیوں اور علی صالح کے دہشت گرد گروپوں داعش اور القاعدہ کے ساتھ گہرے روابط ہیں مگر حکومتی فورسز اور اتحادی ممالک کی افواج نے حضرت موت اور ابین گورنریوں سے دہشت گردوں کا مکمل طورپر صفایا کردیا ہے۔

انہوں نے دہشت گردی کی لعنت سے چھٹکارا پانے کے لیے علاقائی اور عالمی سطح پر ہم آہنگی پیدا کرنے کی ضرورت پربھی زور دیا۔