.

ایران سے پابندیاں اٹھانے کا امریکی اعلان کاغذی ہے: خامنہ ای

’ایران کے دشمن سمجھوتے کے ثمرات سمیٹنے کی راہ میں رکاوٹ ہیں‘

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کے رہبر اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای نے الزام عاید کیا ہے کہ جوہری پروگرام پر سمجھوتہ طے پانے کے باوجود امریکا، ایران پر عاید پابندیاں اٹھانے کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کر رہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایران عالمی اداروں، امریکا اور اس کے حواریوں کی بلیک میلنگ اور دھمکیوں سے خوف زدہ نہیں ہوگا۔

تہران میں لیبر کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے سپریم لیڈر نے کہا کہ ایران اور عالمی طاقتوں کے درمیان معاہدہ اس لیے طے پایا تھا تاکہ ایران پر عاید عالمی اقتصادی پابندیاں مکمل طور پر اٹھائی جاسکیں۔ اب جب ایران اس معاہدے کے ثمرات سمٹینے لگا ہے امریکی اس کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کررہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ امریکا کی جانب سے ایران پر عاید پابندیاں اٹھانے کا اعلان محض کاغذی اور نمائشی ہے۔

سپریم لیڈر کا کہنا تھا کہ بہ ظاہر ایرانی حکومت نے بنکوں کو ایران کے ساتھ لین دین کی اجازت دی ہے مگر ساتھ ہی سرمایہ کاروں کو خوف زدہ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے جس کے نتیجے میں ایرانی بنکوں سے لین دین سے لوگ ڈرتے ہیں۔

خیال رہے کہ ایران کے سپریم لیڈر کی جانب سے یہ الزام ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دوسری جانب دونوں ملکوں کے درمیان عشروں پر پھیلی سرد مہری کم ہونے لگی ہے۔ گذشتہ برس امریکا، یورپی یونین، روس اور چین کے ساتھ معاہدے کے بعد ایران کو توقع تھی کہ عالمی پابندیاں جلد ازجلد اٹھائی جائیں گی تاہم فی الحال ایران کو اس باب میں مشکلات کا سامنا ہے۔ ایران نے امریکی حکومت سے بھی کئی بار اقتصادی پابندیاں اٹھانے اور بنکوں کے ساتھ لین دین بحال کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ مگر امریکی حکومت نے ایران میں انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں اوربیلسٹک میزائل پروگرام پر کام جاری رکھنے پر لین دین روک رکھا ہے۔

گذشتہ ہفتے کو نیویارک میں ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف نے اپنے امریکی ہم منصب جان کیری سے ملاقات کی تھی جس میں انہوں نے کہا تھا کہ امریکا اپنے بنکوں کو ایرانی بنکوں کے ساتھ لین دین پرپابندیاں اٹھانے کے لیے اقدامات کرے۔