.

"سعودی ویژن 2030".. امریکی اور برطانوی ردعمل !

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب میں اقتصادی تبدیلی کے سب سے بڑے منصوبے کے حوالے سے مقامی، علاقائی اور عالمی سطح پر مثبت ردعمل سامنے آنے کا سلسلہ جاری ہے۔ اس حوالے سے امریکا نے "العربیہ" کو جاری خصوصی بیان میں نائب ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی جانب سے متعارف کرائے گئے پروگرام ویژن 2030 کے سلسلے میں "سعودی عرب کے ساتھ تجارتی اور سرمایہ کاری کے تعلقات کی مضبوطی کے لیے اپنی توقعات" کا اظہار کیا ہے۔

وہائٹ ہاؤس کی جانب سے بدھ کے روز العربیہ نیوز چینل کو جاری خصوصی بیان میں کہا کہ "امریکا متعدد میدانوں میں سعودی عرب کا ایک مضبوط شریک ہے جن میں تجارت اور سرمایہ کاری شامل ہیں، ہم معاونت کی اضافی کوششوں کے ذریعے اس شراکت کو مضبوط تر کرنے کے لیے تیار ہیں۔ اس کے لیے اقتصادی تنوع، روزگار کے مواقع اور بہبود کو جنم دینا ہوگا"۔

وہائٹ ہاؤس : سعودی عرب کے ساتھ تعلقات کی مضبوطی کی توقع رکھتے ہیں

بیان میں اقتصادی تبدیلی اور شہریوں کی توقعات کو یقینی بنانے کے لیے سعودی ویژن منصوبے کے امریکی خیرمقدم اور مزید تفصیلات جاننے کی امید کا اظہار کیا گیا ہے۔

بیان کے مطابق "امریکی صدر باراک اوباما اور خلیج تعاون کونسل کے رکن ممالک کی قیادت نے 21 اپریل کو ریاض میں منعقد ہونے والے سربراہ اجلاس میں اقتصادی مکالمہ شروع کرنے کا عہد کیا تھا جس کے ذریعے خلیجی ممالک کو امور کے زیربحث لانے کے لیے ایک فورم میسر آئے گا۔ اس کے علاوہ نئی پالیسیاں اختیار کرنے کے لیے منصوبے بھی پیش کیے جاسکیں گے تاکہ ان ممالک کے شہریوں کی ضروریات پوری کرنے کے لیے اضافی ذرائع تخلیق کیے جاسکیں اور تیل کی قیمتیں گرجانے کی وجہ سے درپیش چیلنجوں کے حوالے سے مکالمے کا دروازہ کھولنے میں مزید آسانیاں پیدا ہوسکیں"۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ "اقتصادی اور سرمایہ کاری کے میدانوں میں خلیجی ممالک اور امریکا کے درمیان وزراء کی سطح پر بات چیت کو وسیع پیمانے پر جاری رکھا جائے گا۔ اس کے علاوہ توانائی اور ماحولیات سے متعلق پالیسی وضع کرنے میں شرکت کے لیے خلیجی ممالک کے ساتھ آگے بڑھا جائے گا"۔

لامحدود صلاحیتوں کا حامل شہزادہ

اسی سیاق میں برطانوی اخبار "دی ٹائمز" نے بدھ کے روز اپنے ایڈیٹوریل میں عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ سعودی نائب ولی عہد اور اقتصادی و ترقیاتی امور کی کونسل کے سربراہ شہزادہ محمد بن سلمان کی جانب سے "سعودی ویژن 2030" کے نام سے مستقبل کا ویژن اعلان کیے جانے کے بعد انہیں لازمی سپورٹ پیش کی جائے۔ اخبار نے محمد بن سلمان کو "Unlimited Prince" قرار دیا۔

برطانوی اخبار نے اپنا ایڈیٹوریل "سعودی ویژن 2030" پروگرام کے لیے مخصوص کردیا۔

اس پروگرام کا مقصد آنے والے سالوں کے دوران تیل پر انحصار کو ختم کرنا ہے۔

"Unlimited Prince" کے عنوان سے تحریر کیے جانے والے ایڈیٹوریل میں کہا گیا ہے کہ اگرچہ اس ویژن پروگرام کو بڑی رکاوٹوں کا سامنا ہوسکتا ہے تاہم "اس میں ایسے امور شامل ہیں جن کا محض زیربحث لانا ہی سعودی عرب میں ایک تاریخی تبدیلی ہے"۔

اخبار کے مطابق "سعودی ویژن" ماضی میں شہزادہ محمد بن سلمان کے ساتھ ہونے والے انٹرویوز کے ایک سلسلے کے بعد سامنے آیا ہے۔ ان انٹرویوز میں انہوں نے اس امر کو باور کرایا تھا کہ قیمتوں کے نیچے آنے کے باوجود مملکت اپنی تیل کی پیداوار کی کمی کو یکسر مسترد کرتی ہے۔ شہزادہ سلمان کا یہ بھی کہنا رہا کہ سعودی عرب " تیل کی عادت سے سبک دوشی" کے منصوبے کو مضبوطی سے تھامے ہوئے ہے اور عالمی منڈی میں قیمتوں سے قطع نظر تیل کے بعد کے زمانے کی تیاری کر رہا ہے۔

اخبار نے مزید کہا کہ سعودی عرب کے اس ضخیم منصوبے میں "ارامكو" کمپنی کے 5% سے کم حصص سرمایہ کاروں کے سامنے فروخت کے لیے پیش کیا جانا شامل ہے۔ تاہم یہ معمولی سی شرح (5% سے کم) بھی تاریخ میں پبلک آفرنگ کا سب سے بڑا آپریشن ہوگا اور توقع ہے کہ اس آئی پی او کی مالیت 125 ارب ڈالر سے زیادہ ہوگی"۔ اخبار کے مطابق "ارامكو" کا آئی پی او سعودی عرب کی جانب سے دنیا کے سب سے بڑے خودمختار فنڈ کے قیام کا حصہ بنے گا جس کی مجموعی مالیت 20 کھرب ڈالر سے زیادہ ہوگی۔ یہ فنڈ مملکت کے نان آئل ریونیو کے موجودہ حجم کو چھ گنا بڑھا دے گا۔

اخبار نے انکشاف کیا ہے کہ نوجوان شہزادے نے جو مملکت کے بانی فرماں روا شاہ عبدالعزیز آل سعود کے ایک پوتے ہیں، انہوں نے پانی اور بجلی کی سبسڈی کو جو مجموعی صورت میں سعودی عرب کے امیر طبقے کو جا رہی تھی ختم کرنے کے لیے حقیقی اقدامات کیے۔ اس کا مقصد سبسڈی کے طریقہ کار کا رخ مملکت کے کم آمدن والے مستحق افراد کی جانب موڑنا ہے۔ شہزادے نے "بدعنوانی کے خاتمے اور معاشرے میں خواتین کی سپورٹ کا بھی عزم کیا ہے"۔

اخبار کے مطابق سعودی عرب میں آبادیاتی مسئلہ نے بھی شہزادہ محمد کو تشویش میں مبتلا کر رکھا ہے جہاں مملکت کی آبادی کا دو تہائی حصہ تیس برس سے کم عمر افراد پر مشتمل ہے جب کہ ان افراد میں بے روزگاری کی شرح 30% تک پہنچ گئی ہے۔ یہ بات واضح ہوچکی ہے کہ تیل پر انحصار کرنے والی معیشت ان نوجوانوں کو روزگار کے مواقع فراہم کرنے کی قدرت نہیں رکھتی جب کہ "سعودی ویژن 2030" پروگرام ایسا کر سکتا ہے۔

غیرمعمولی ذہانت ایپل کمپنی کے بانی کا طریقہ یاد دلاتی ہے

دوسری جانب امریکی اخبار "دی کرسچیئن سائنس مانیٹر" نے بھی اپنے ایک ایڈیٹوریل مضمون کو "سعودی ویژن کی جرات" کا عنوان دے کر اس میں لکھا ہے کہ سعودی ویژن 2030 پروگرام میں تیل کے بعد کی معیشت کے لیے باقاعدہ مواقع پیش کیے گئے ہیں اور محض مملکت کے مسائل اور ان سے نمٹنے کی کیفیت کو نہیں بیان کیا گیا۔

اخبار کے نزدیک سعودی عرب کے نائب ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے سوچنے کا طریقہ کار مشہور زمانہ ایپل کمپنی کے بانی اسٹیو جابز کے انداز کی یاد دلاتا ہے جنہوں نے خود کو صرف مشکلات اور ان کے حل کی کیفیت پر غور کرنے تک مصروف نہیں رکھا بلکہ خود کے سامنے موجود مواقع کو بھرپور طریقے سے جانا۔