.

امریکا اس سال 10 ہزار شامی مہاجرین کو پناہ دے گا: اوباما

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

صدر براک اوباما نے امید ظاہر کی ہے کہ امریکا اس سال کے اختتام تک رکاوٹوں اور حزب اختلاف کی مخالفت کے باوجود دس ہزار شامی مہاجرین کو پناہ دینے کا ہدف پورا کرلے گا۔

امریکی صدر نے خانہ جنگی کا شکار شام سے گذشتہ سال موسم خزاں میں ہزاروں کی تعداد میں لوگوں کے روزانہ یورپی ممالک کی جانب راہ فرار اختیار کرنے کے دوران مالی سال 2016ء میں دس ہزار شامی مہاجرین کو قبول کرنے کا وعدہ کیا تھا لیکن محکمہ خارجہ نے 31 مارچ کو یہ اطلاع دی تھی کہ مالی سال کے پہلے نصف کے دوران صرف 1285 شامیوں کو امریکا میں آنے کی اجازت دی گئی تھی۔

انھوں نے طلبہ صحافیوں کے ساتھ وائٹ ہاؤس میں ایک نیوزکانفرنس میں کہا کہ انتظامی طور پر میرے خیال میں ہمیں یہ عمل تیز کرنا ہوگا۔ہمارا مقصد یہ کیس کانگریس اور امریکی عوام کے روبرو پیش کرنا ہے اور انھیں یہ باور کرانا ہے کہ یہ ایک درست کام کیا جارہا ہے۔ہمیں یقین ہے کہ سال کے اختتام سے قبل ہم یہ مقصد حاصل کرسکتے ہیں۔

صدر اوباما سے جب جمعرات کو سوال کیا گیا کہ کیا یہ ہدف حاصل ہوجائے گا تو انھوں نے کہا کہ ''ہم اس کو آگے بڑھانے جارہے ہیں''۔امریکی صدر کے وعدے کو عملی جامہ پہنانے میں ری پبلکنز کی مخالفت کی وجہ سے رکاوٹ پڑی ہے اور وہ اس تشویش کا اظہار کرچکے ہیں کہ مہاجرین کے روپ میں جنگجو بھی امریکا آ سکتے ہیں۔

شامی مہاجرین

تیس سے زیادہ گورنروں نے اپنی ریاستوں میں شامی مہاجرین کا داخلہ روکنے کی کوشش کی ہے لیکن عدالتوں اور اٹارنی جنرل کا کہنا ہے کہ مہاجرین کو سکرین کرنا اور انھیں بسانا وفاقی حکومت کا کام ہے۔

صدر اوباما کا کہنا تھا کہ ان کی انتظامیہ عوام کو یہ یقین دلانا چاہتی ہے کہ مہاجرین کی مناسب طریقے سے جانچ پرتال کی جارہی ہے اور کانگریس اس عمل کو سخت بنانے کے لیے مزید رکاوٹیں کھڑی کرسکتی ہے۔

امریکا نے اپنے یورپی اور مشرق وسطیٰ میں اتحادیوں کے مقابلے میں کہیں کم تعداد میں شامی مہاجرین کو پناہ دینے کی پیش کش کی تھی۔مہاجرین کی جانچ پرتال اور انھیں پناہ دینے کے ذمے دار ادارے یوایس سٹیزن شپ اور امیگریشن سروسز پر اس بات کو یقینی بنانے کے لیے اضافی دباؤ ہے کہ امریکا میں قبول کیے جانے والے شامیوں کا متشدد انتہا پسندوں کے ساتھ کسی قسم کا تعلق نہ رہا ہو۔اس لیے 13 نومبر کو پیرس میں حملوں کے بعد جانچ پرکھ اور سکریننگ کے لیے اضافی اقدامات کی منظوری دی گئی تھی اور اب امریکا آنے والے شامیوں کو اس کڑی کسوٹی پر پرکھا جارہا ہے۔