.

امریکی عدالت کا فیصلہ ،ایران کا بین کی مون سے مداخلت کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بین کی مون سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ امریکا کو ریاستی استثنیٰ کی خلاف ورزی کرنے سے روکے۔ایران نے یہ مطالبہ امریکا کی عدالت عظمیٰ کے ایک حالیہ فیصلے کیے بعد کیا ہے جس میں قرار دیا گیا ہے کہ ایران کے مرکزی بنک کے منجمد اثاثوں کو دہشت گردی سے متاثرہ افراد اور ان کے خاندانوں کو ہرجانے کے طور پر ادا کرنے کے لیے استعمال کیا جائے۔

اس فیصلے کے ایک ہفتے کے بعد ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف نے بین کی مون کو ایک خط لکھا ہے جس میں ان پر زوردیا ہے کہ وہ امریکی حکومت کو اپنی بین الاقوامی ذمے داریاں پوری کرنے پر آمادہ کرنے کے لیے اثرورسوخ استعمال کریں۔

یہ خط اقوام متحدہ میں ایرانی مشن نے جاری کیا ہے اور اس میں جواد ظریف نے بین کی مون سے مزید کہا ہے کہ وہ امریکی بنکوں میں پڑے ایران کے منجمد اثاثوں کے اجراء اور امریکا کو ایران کی بین الاقوامی تجارتی اور مالیاتی ترسیلات زر میں مداخلت سے روکنے کے لیے مدد دیں۔

انھوں نے لکھا ہے:'' امریکا کی انتظامی برانچ نے غیر قانونی طور پر ایران کے قومی اثاثے منجمد کررکھے ہیں۔امریکا کی قانون سازی کی برانچ (کانگریس) ان اثاثوں کو غیر قانونی طور پر منجمد کرنے کے لیے قانون سازی کرتی ہے اور امریکا کی عدالتی برانچ ایرانی اثاثوں کو ضبط کرنے کے لیے فیصلے جاری کرتی ہے حالانکہ ان کا کوئی قانونی جواز یا بنیاد نہیں ہے''۔

درایں اثناء ایران کے سرکاری میڈیا نے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے مشیر اعلیٰ علی اکبر ولایتی ایک بیان نقل کیا ہے جس میں انھوں نے کہا ہے کہ ایران اپنے حقوق سے دستبردار نہیں ہوگا اور اس کو اس بین الاقوامی چوری کو روکنے کے لیے کوئی بھی ضروری اقدام کرنے کا حق حاصل ہے''۔انھوں نے کہا یہ رقوم ایران کی ملکیت ہیں۔

بین کی مون کے ترجمان اور اقوام متحدہ میں امریکا کے مشن نے فوری طور پر جواد ظریف کے خط پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔انھوں نے اپنے خط میں مزید لکھا ہے کہ ''یہ امریکا ہے جس کو ایرانی عوام کو طویل عرصے سے واجب الادا رقوم ادا کرنی چاہییں کیونکہ وہ اس کی مستقل معاندانہ پالیسیوں سے سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں''۔انھوں نے 1988ء میں ایران کے مسافر طیارے پر فائرنگ کے واقعے سمیت مختلف واقعات کا حوالہ دیا ہے۔

امریکا کی عدالت عظمیٰ نے گذشتہ ہفتے ایران کے خلاف دہشت گردی میں ہلاک شدہ افراد کے خاندانوں کو قریباً دو ارب ڈالرز ہرجانے کے طور پر ادا کرنے کا فیصلہ برقرار رکھا تھا اور قرار دیا تھا کہ عدالتوں کے اختیار کو محدود کرنے کے لیے امریکی کانگریس کو قانون سازی کا کوئی حق نہیں ہے۔

استغاثہ کے مطابق یہ افراد ایران کی اسپانسر دہشت گردی میں ہلاک ہوئے تھے اور ایک وفاقی عدالت نے 2007ء میں ایران کو دہشت گردی کے متاثرین کو دو ارب ڈالرز ادا کرنے کا حکم دیا تھا۔عدالت عظمیٰ نے 241 میرینز کے خاندانوں کے حق میں چھے،دو کی اکثریت سے فیصلہ سنایا ہے۔

یہ امریکی میرینز1983ء میں لبنان کے دارالحکومت بیروت میں دہشت گردی کے حملے میں ہلاک ہوگئے تھے۔ان کے لواحقین اور دوسرے حملوں کے متاثرین نے ایران کے خلاف ہرجانے کا مقدمہ دائر کیا تھا۔ان کے وکلاء نے یہ موقف اختیار کیا تھا کہ ان متاثرین کو ایران کے مرکزی بنک کے منجمد اثاثوں سے یہ رقم ادا کی جائے۔

ایران کے مرکزی بنک نے اس مقدمے کی سماعت کے دوران عدالت عظمیٰ میں یہ شکایت کی تھی کہ کانگریس امریکا کی وفاقی عدالتوں کے کام میں مداخلت کررہی ہے۔کانگریس نے 2012ء میں ایک قانون کی منظوری دی تھی اوراس میں یہ ہدایت کی گئی تھی کہ امریکا میں اس بنک کے اثاثوں کو متاثرہ خاندانوں میں تقسیم کے لیے استعمال کیا جائے۔

سپریم کورٹ کے چیف جسٹس جان رابرٹس اور جسٹس سونیا سوٹو مئیر نے فیصلے میں کانگریس کے اس قانون کے حوالے سے کہا ہے کہ ''سیاسی شاخوں کی اتھارٹی کافی ہے،اس لیے انھیں ہماری اتھارٹی ضبط کرنے کی ضرورت نہیں ہے''۔

بیروت میں میرینز کی بیرکوں میں بم دھماکے کے متاثرین سمیت تیرہ سو سے زیادہ افراد نے یہ کیس دائر کیا تھا۔ان میں 1996 میں سعودی عرب میں الخوبر ٹاورز میں دہشت گردی کے حملے میں ہلاک شدہ انیس اہلکاروں اور دوسرے حملوں کے مہلوکین کے خاندان بھی شامل تھے۔یہ حملے مبینہ طور پر ایران سے وابستہ گروپوں نے کیے تھے۔