.

لیبی حکومت کا سرت میں داعش مخالف کارروائی روکنے کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لیبیا میں اقوام متحدہ کی حمایت یافتہ حکومت نے تمام عسکری دھڑوں سے کہا ہے کہ وہ سابق صدر معمر قذافی کے آبائی شہر سرت میں داعش کے خلاف ہر طرح کی مہم جوئی اس وقت تک روک دیں جب تک ایک مشترکہ فوجی کمان کا ڈھانچا تشکیل نہیں دے دیا جاتا۔

قومی اتحاد کی حکومت کی جانب سے یہ بیان مشرقی اور مغربی لیبیا سے تعلق رکھنے والے فوجی دھڑوں کے سرت کی جانب پیش قدمی کے اعلانات کے تناظر میں سامنے آیا ہے۔طرابلس میں فجر لیبیا کے تحت فورسز اور مشرقی شہر بن غازی سے تعلق رکھنے والی فورسز اس سے پہلے بھی سرت کو داعش کے جنگجوؤں سے بازیاب کرانے کے اعلانات کرچکی ہیں لیکن انھوں نے ابھی تک ان کو عمل جامہ نہیں پہنایا ہے۔

داعش نے لیبیا میں متحارب حکومتوں کے درمیان جاری باہمی آویزش کا فائدہ اٹھاتے ہوئے 2015ء میں وسطی شہر سرت پر قبضہ کر لیا تھا اور اس کے علاوہ بحر متوسط کے ساتھ واقع قریباً ڈھائی سو کلومیٹر ساحلی پٹی پر بھی کنٹرول حاصل کر لیا تھا۔

اب مغربی ملکوں کو امید ہے کہ قومی اتحاد کی حکومت کے تحت لیبیا کے مسلح دھڑے اس سخت گیر جنگجو گروپ کے خلاف کارروائی کے لیے مل جل کر کام کریں گے اور اس کو شکست سے دوچار کریں گے۔ان مغربی ممالک نے قومی اتحاد کی حکومت کی جانب سے درخواست کی صورت میں لیبی فورسز کو تربیت دینے کی بھی پیش کش کی ہے۔

قومی اتحاد کی حکومت کی قیادت (صدارتی کونسل) نے جمعرات کو ایک بیان میں مختلف دھڑوں کی جانب سے سرت میں داعش کے خلاف کارروائی کا خیرمقدم کیا ہے لیکن اس نے خبردار کیا ہے کہ غیرمربوط اور غیر منضبط حملے سے خانہ جنگی کی راہ بھی ہموار ہوسکتی ہے۔

اس نے بیان میں کہا ہے کہ ''متحدہ قیادت اور رابطے کی عدم موجودگی میں کونسل اپنی اس تشویش کا اظہار کرتی ہے کہ داعش کے خلاف سرت میں جنگ ان مسلح فورسز کے درمیان محاذ آرائی میں بھی تبدیل ہوسکتی ہے اور اس طرح کے تنازعے کی صورت میں داعش ہی کو فائدہ ہوگا''۔

صدارتی کونسل نے مسلح افواج کے سپریم کمانڈر کی حیثیت سے لیبیا کی تمام مسلح افواج سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ سرت آپریشن کے لیے ایک مشترکہ قیادت کے تقرر کا انتظار کریں۔