.

یمنی حکومت کے حوثیوں سے براہ راست مذاکرات معطل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمنی حکومت نے اتوار کو کویت میں حوثی ملیشیا کے وفد کے ساتھ براہ راست امن مذاکرات معطل کردیے ہیں اور کہا ہے کہ اس نے یہ فیصلہ حوثیوں کی جانب جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کی بنا پر کیا ہے۔

یمن کے متحارب فریقوں نے ہفتے کے روز تنازعے کے خاتمے کے لیے اہم امور پر بالمشافہ امن مذاکرات کا آغاز کیا تھا۔کویت میں اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی برائے یمن اسماعیل ولد شیخ احمد کے ترجمان شربیل راجی نے صحافیوں کو بتایا کہ ''تمام وفود موجود ہیں اور اہم ایشوز کو طے کرنے کی کوشش کی جائے گی''۔

قبل ازیں 21 اپریل سے متحارب وفود کی اقوام متحدہ کے ایلچی سے ہی بات چیت ہوتی رہی ہے۔ان کے ذریعے ان کے درمیان بالواسطہ مذاکرات جاری تھے اور تمام فریق اکٹھے آمنے سامنے نہیں مل بیٹھے تھے۔

یمنی حکومت اور حوثیوں کے درمیان مسلح گروپوں کے ان کے زیر قبضہ علاقوں سے انخلاء ،بھاری ہتھیاروں کو یمنی فورسز کے حوالے کرنے ،سیاسی انتقال اقتدار کے عمل اور قیدیوں کی رہائی سے متعلق امور پر اختلافات پائے جاتے ہیں۔اب حکومتی وفد اور حوثی باغیوں کی جانب سے تنازعے کے سیاسی اور سکیورٹی حل سے متعلق تجاویز پیش کیے جانے کے بعد مذاکرات متوقع ہیں۔

یمنی حکومت کے وفد کا کہنا ہے کہ ان کی تجاویز اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 2216 کے نفاذ پر مبنی ہیں۔اس میں کہا گیا ہے کہ باغیوں کو مذاکرات سے قبل اپنے زیر قبضہ علاقوں سے دستبردار ہونا ہوگا اور ہتھیار ڈالنا ہوں گے۔

درایں اثناء حوثی باغیوں کے زیرانتظام سبا نیوز ویب سائٹ نے باغی وفد کے ایک بے نامی ذریعے کے حوالے سے بتایا ہے کہ انھوں نے اتفاق رائے سے ایک اتھارٹی کے قیام کی تجویز پیش کی ہے جو سیاسی انتقال اقتدار کے عمل کی نگرانی کرے گی۔انھوں نے سعودی عرب کی قیادت میں اتحاد کی جانب سے جاری یمن کی ناکا بندی ختم کرنے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔

حوثی وفد اور معزول صدر علی عبداللہ صالح کی جماعت جنرل پیپلز کانگریس نے ہفتے کے روز اپنی تحریری تجاویز پیش کی تھیں۔ان میں کہا گیا تھا کہ یمن میں اگلے مرحلے میں کیا اقدامات کیے جانے چاہییں۔

یمن کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی اسماعیل ولد شیخ احمد نے گذشتہ روز کہا تھا کہ متحارب فریق ایک طویل فاصلہ طے کر آئے ہیں اور تنازعے کے حل کے لیے ان کے درمیان ایک مشترکہ عزم پایا جاتا ہے۔

تاہم انھوں نے نیوز کانفرنس میں کہا کہ متحارب دھڑوں کے درمیان سیاسی مفاہمت کے باوجود امن کی راہ میں ابھی بہت سی رکاوٹیں حائل ہیں۔انھوں نے بتایا کہ انسانی امداد یمن کے مختلف حصوں میں پہنچ چکی ہے اور گذشتہ پانچ روز کے دوران یمن میں کوئی فضائی حملہ نہیں کیا گیا ہے۔

ان کی اس نیوز کانفرنس کے تھوڑی دیر بعد ہی العربیہ نیوز چینل نے یمن کے وسطی شہر تعز میں حوثی ملیشیا کی حکومت نواز عوامی مزاحمتی قوتوں کے ٹھکانوں پر بمباری کی اطلاع دی تھی جس کے نتیجے میں دو افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔