.

ترک فوج کے شام میں داعش پر حملوں میں 34 جنگجو ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترکی کی مسلح افواج نے ملک کے جنوبی علاقے سے شام میں داعش کے ٹھکانوں پر توپ خانے سے گولہ باری کی ہے اور بغیر پائیلٹ جاسوس طیاروں سے میزائل داغے ہیں جن کے نتیجے میں چونتیس جنگجو ہلاک ہوگئے ہیں۔

ترک افواج نے سوموار کو ایک بیان میں بتایا ہے کہ یہ حملے داعش کی جانب سے جنوبی صوبے کیلیس پر راکٹ باری کے ردعمل میں کیے گئے ہیں۔اس بمباری میں داعش کی چھے گاڑیوں اور راکٹ لانچروں کی جگہوں کو تباہ کردیا گیا ہے۔

ترکی کے سرحدی قصبے کیلیس اور اس کے نواحی علاقوں پر حالیہ مہینوں کے دوران شام میں داعش کے زیر قبضہ علاقوں سے کئی مرتبہ راکٹ فائر کیے جاچکے ہیں اور ان میں متعدد شہری مارے گئے ہیں۔

ترک فوج نے اتوار کو پہلے راکٹ لانچروں کے ذریعے سرحد سے بارہ کلومیٹر دور داعش کے اہداف کو نشانہ بنایا تھا۔اس کے بعد ترکی کے جنوب میں واقع انچرلیک بیس سے اڑنے والے چار ڈرونز نے داعش کے مزید اہداف پر میزائل داغے ہیں اور انھیں تباہ کردیا ہے۔

ترک فوج داعش کی جانب سے شامی علاقے سے اپنے علاقوں پر راکٹ باری کا پہلے بھی فوری جواب دیتی رہی ہے۔تاہم اس کا کہنا ہے کہ اس کو داعش کے ٹھکانوں کو زیادہ فاصلے سے ہدف بنانے کے لیے مغربی اتحادیوں سے مزید امداد کی ضرورت ہے۔

ترک وزیر خارجہ مولود شاوس اوغلو نے گذشتہ ہفتے ایک انٹرویو میں بتایا تھا کہ ان کے ملک کا امریکا کے ساتھ شام کی سرحد پر ہلکے راکٹ لانچروں کی تنصیب کے لیے ایک سمجھوتا طے پا گیا ہے۔اس کے تحت ہائی موبیلٹی آرٹلری راکٹ سسٹم (حمارس) کو مئی میں ترکی کی شام کے ساتھ واقع سرحد پر نصب کیا جائے گا۔

ان راکٹ لانچروں کو شامی علاقے میں داعش کے جنگجوؤں پر حملوں کے لیے استعمال کیا جائے گا۔اس کے ذریعے ترکی کی مسلح افواج 90 کلومیٹر کی رینج میں داعش کے اہداف کو نشانہ بنا سکیں گی۔اس وقت ترکی کا توپ خانہ صرف 40 کلومیٹر تک اہداف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت کا حامل ہے۔