.

داعش میں 3000 سعودی نوجوانوں کی شمولیت کا انکشاف

داعش سے نمٹنے کے لیے محکمہ دفاع سے رابطے میں ہیں: وزارت داخلہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کی وزارت داخلہ نے واضح کیا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ کے لیے حکومت کے پاس جتنی بھی اہم معلومات ہوتی ہیں انہیں طے شدہ سرکاری طریقے کے مطابق متعلقہ محکموں اور وزارت دفاع تک پہنچایا جاتا ہے۔

وزارت داخلہ کے ترجمان میجر جنرل منصور الترکی نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا کہ دہشت گردوں کے بارے میں چاہے وہ اندرون ملک میں ہوں یا بیرون ملک میں ہوں کے بارے میں معلومات کا تبادلہ طے شدہ پروگرام کے مطابق کیا جاتا ہے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ کے لیے سعودی عرب کی وزارت دفاع، داخلہ اور وزارت مذہبی امور بھی آپس میں ایک دوسرے سے رابطے میں ہیں۔ جس ادارے کے پاس دہشت گردوں کے بارے میں جس نوعیت کی بھی معلومات ہوتی ہیں وہ مربوط طریقہ کار سے دوسرے اداروں تک پہنچائی جاتی ہیں۔

ایک سوال کے جواب میں سعودی وزارت داخلہ کے ترجمان کا کہنا تھا کہ بیرون ملک بالخصوص شام میں داعش کے خلاف کارروائی کے بارے میں عالمی برادری سے رابطوں کا ذمہ دار محکمہ دفاع ہے۔ محکمہ دفاع ہی دہشت گردی کے خلاف سرگرم عالمی اتحاد کے ساتھ بھی رابطے میں رہتا ہے۔ شام میں سرگرم دولت اسلامیہ [داعش] کی سرکوبی کے لیے عالمی طاقتوں کے اتحاد میں سعودی عرب بھی شامل ہے۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ وزارت داخلہ دہشت گردوں کے بارے میں ہرنوعیت کی معلومات سیکیورٹی اداروں تک پہنچانے کا ذمہ دارہے۔

میجر جنرل منصور الترکی کا کہنا تھا کہ دہشت گردوں کے اہداف کے بارے میں ہمارے پاس جتنی بھی اہم معلومات ہوتی ہیں انہیں کم سے کم وقت میں دوسرے اداروں تک پہنچایا جاتا ہے تاکہ انہیں شام میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں پرحملوں کے لیے استعمال کیا جایے۔

تین ہزار سعودی داعش میں شامل

قبل ازیں اتوار کو ریاض میں ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سعودی وزارت داخلہ کےترجمان میجنر جنرل منصور الترکی کا کہنا تھا کہ عالمی دہشت گرد تنظیم دولت اسلامی ’’داعش‘‘ میں 3000 سعودی نوجوان بھی شامل ہیں جن میں 760 نے واپس سعودی عرب پہنچنے کے بعد خود کو حکام کے حوالے کردیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ جب تک شام کا مسئلہ حل نہیں ہوجاتا تب تک دہشت گردی کی درآمد کا سلسلہ جاری رہے گا۔

درایں اثناء وزارت داخلہ کے ترجمان کے ہمراہ نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بریگیڈیئر بسام عطیہ نے بتایا کہ سعودی عرب میں داعش کے موجود نیٹ ورک کا کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم شام کی داعشی لیڈر شپ کے ہاتھ میں ہے۔ شام میں بیٹھے دہشت گرد سعودی عرب میں موجود اپنے ہم خیال جنگجوؤں کو سعودی عرب کی سلامتی کے خلاف استعمال کررہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ایک سال سے کم عرصے میں سعودی عرب میں داعش نے 30 دہشت گردانہ کارروائیاں کی ہیں۔

بریگیڈیئر بسام عطیہ کا کہنا تھا کہ شام میں داعش کی جانب سے دہشت گرد سعودی عرب بھیجے جاتے ہیں جو یہاں کے لوگوں کو ورغلا کراپنی صفوں میں شامل کرنے اور دہشت گردی کے واقعات میں انہیں استعمال کرتے ہیں۔ ان کا ہدف حکومتی اور سیکیورٹی اداروں کے عہدیداروں کے ساتھ ساتھ عام شہری، غیرملکی باشندے اور سعودی املاک ہوتی ہیں۔

دہشت گردی کے لیے باہم رابطہ کاری

سعودی سیکیورٹی عہدیدار بسام عطیہ نے بتایا کہ سعودی عرمیں دہشت گردی کی کارروائیوں کو آگے بڑھانے کے لیے شام میں بیٹھے دہشت گردوں اوران کے سعودی بہی خواہوں کےدرمیان گہرے رابطے موجود ہیں۔ سعودی عرب میں کسی بھی کارروائی کی منصوبہ بندی اور اس کے احکامات شام کی داعش کی جانب سے دیے جاتے ہیں جب کہ ان کارروائیوں کے لیے مالی اور لاجسٹک سپورٹ کےساتھ ساتھ اسلحہ کی فراہمی مقامی دہشت گردوں کی ذمہ داری ہوتی ہے۔ یوں سعودی دہشت گردوں کی ذمہ داری کسی بھی کارروائی پرعمل درآمد ہوتا ہے۔

بسام عطیہ کا کہناتھا کہ کچھ لوگ دہشت گردوں کے درمیان رابطے کے لیے سہولت کار کا کردار ادا کرتے ہیں جوشام اور سعودی عرب میں دہشت گردوں کے درمیان تیسرے فریق کے طورپر کام کرتے ہیں۔ ایسے ایجنٹ دونوں ملکوں کے شدت پسندوں کو ایک دوسرے کے پیغامات پہنچاتے ہیں۔ مثال کے طورپر پچھلے سال عبدالمالک البعادی نامی دہشت گرد کو شام کے دہشت گردوں نے اپنے رابطہ کاروں کے ذریعے دہشت گردی کی منصوبہ بندی کا حکم دیا۔ سعودی عرب میں عسیر کے مقام پر ایمرجنسی سروسز کی مسجد میں دہشت گردی کی کارروائی میں ملوث یوسف السلیمان نامی دہشت گرد کو البعادی کے بھائی جو شام میں موجود ہے نے کارروائی کا پیغام پہنچایا تھا۔