.

اسد رجیم اور داعش کے مابین خفیہ تعاون کا بھانڈا پھوٹ گیا

داعشی دہشت گردوں کو محفوظ راستہ دیے جانے کا انکشاف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام میں صدر بشار الاسد کی حکومت اور دہشت گرد تنظیم دولت اسلامی (داعش) کے درمیان خفیہ تعاون کی خبریں ماضی میں سامنے آتی رہی ہیں مگرحال ہی میں برطانوی ٹی وی نیٹ ورک Sky News نے داعش سے لیک ہونے والی خفیہ دستاویزات نشر کی ہیں جن سے یہ بات پایہ ثبوت کو پہنچ گئی ہے کہ اسد رجیم اور داعش کے درمیان خفیہ تعاون کا سلسلہ نہایت منظم اور مربوط طریقے سے جاری ہے۔

اسکائی نیوز نیٹ ورک نے سوموار کے روز ایک رپورٹ نشرکی ہے۔اس میں داعش کی کچھ دستاویزات کا حوالہ دیا گیا ہے اور بتایا گیا ہے کہ شامی فوجیوں اور داعشی جنگجوؤں کے درمیان ہونے والے باہمی تعاون کے نتیجے میں دونوں ایک دوسرے کو محفوظ راستے دیتے اور اسلحہ کی سپلائی میں تعاون کرتے رہے ہیں۔ ٹی وی رپورٹ میں داعش اور اسد رجیم کے درمیان طے پائے خفیہ سمجھوتے کی ایک نقل کا عکس بھی نشر کیا ہے جس شامی حکومت کی جانب سے داعش کے جنگجوؤں کو محفوظ راستہ دینے کی یقین دہانی کرائی گئی ہے۔

اسکائی نیوز کا کہنا ہے کہ اسے یہ خفیہ دستاویزات داعش سے مںحرف ہونے والے کچھ افراد کے ذریعے ملی ہیں۔ خفیہ دستاویز میں داعش نے شامی فوج سے مطالبہ کیا کہ وہ الرقہ شہر اور اس کے آس پاس سے تمام بھاری ہتھیار، ٹینک اورطیارہ شکن توپیں وہاں سے ہٹائے۔ نیز تدمر شہر میں پھنسے داعشی جنگجوؤں کو محفوظ راستہ دینے کا معاہدہ کیا گیا۔

اسکائی نیوز کے نامہ نگار سٹیوراٹ رمسائی نے داعش سے مںحرف ہونے والے جنگجو سے پوچھا کہ کیا داعش اور اسد رجیم کے درمیان براہ راست تعاون رہا ہے؟ کیا روسی فوج جو شام میں کارروائیوں کےدوران داعش کے سوا دیگر جنگجوؤں کو نشانہ بناتی رہی کے درمیان بھی کسی قسم کا خفیہ تعاون رہا ہے تو جنگجو کا جواب تھا کہ ’’جتنا یہ سوال اہم ہے اتنا ہی اس کا جواب بھی بہت بڑا ہے‘‘۔ ساتھ ہی اس نے کہا کہ ہاں بلا شبہ اسد رجیم اور روسی فوج کے ساتھ کہیں نہ کہیں داعش کا تعاون جاری رہا ہے۔

منحرف جنگجو کا کہنا ہے کہ داعش نے ایک معاہدے کے تحت تدمر شہر کا کنٹرول اسد نواز فوج اور اس کی حامی ملیشیا کے حوالے کیا ہے۔ ایک اور خفیہ دستاویزات میں داعش اور اسد رجیم کے درمیان تیل کے بدلے میں خوراک کا معاہدہ کیا گیا ہے۔ داعش کی جانب سے شامی حکومت کو تیل فروخت کرنے کا اعلان کیا گیا اس کے بدلے میں حکومت کی طرف سے زرعی اجناس اور بعض علاقوں کو خالی کرنے کی توثیق کی گئی تھی۔

برطانوی ٹی وی کے نامہ نگار نے جیش الحر کے عہدیداروں سے بھی اس حوالے سے بات کی اور انہوں نے بھی داعش اور اسدی فوج کے درمیان خفیہ تعاون ، تجارتی معاہدوں اور ایک دوسرے کو محفوظ راستہ دیے جانے کے معاہدوں کی تصدیق کی ہے۔