.

اسلام دشمنی کے باوجود ٹرمپ ایران کا پسندیدہ امیدوارکیوں؟

ڈونلڈ ٹرمپ اور احمدی نژاد میں کیا قدریں مشترک ہیں؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عالم اسلام میں اپنے متنازع بیانات بالخصوص اسلام اور مسلمانوں سے متعلق ریمارکس پر امریکی صدارتی دوڑ میں شامل ری پبلکن امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ کو مسلمان ملکوں کے ہاں ایک ناپسندیدہ امیدوار قرار دیا جاتا ہے مگر اسلام دشمنی کے علی الرغم ایرانی ٹرمپ کو امریکا میں ’موزوں ترین‘ صدارتی امیدوار کیوں قرار دے رہے ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق ایران کی سرکاری پالیسی عموما امریکی صدارتی انتخابات کے حوالے سے لاپرواہی پرمبنی رہی ہے اور تہران بہت کم کسی صدارتی امیدوار کی کھل کرحمایت یا مخالفت کرتا رہا ہے۔ اپنے اسلام مخالف بیانات کے باوجود ڈونلڈ ٹرمپ کے بارے میں ایران میں نرم گوشہ پایا جاتا ہے اور ایرانی حکام انہیں دوسرے امیدوارں پر ترجیح دیتے ہیں۔

ایرانیوں کے ہاں نہ صرف ٹرمپ کی حمایت میں اضافہ ہو رہا ہے بلکہ وہ سابق صدر محمود احمدی نژاد اور ڈونلڈ ٹرمپ کی شخصیات میں یکسانیت تلاش کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ بہ ظاہر دونوں میں ایسی کون سی قدر مشترک ہے جس کی بناء پر ڈنلڈ ٹرمپ اور احمدی نژاد کو ایک جیسا لیڈر قرار دیا جاتا ہے؟ العربیہ ڈاٹ نیٹ نے مبصرین کی آراء کی روشنی میں اس کا جواب تلاش کرنے کی کوشش کی ہے۔

سنہ 2005ء میں ایران میں ہونے والے صدارتی انتخابات میں محمود احمدی نژاد کامقابلہ سابق صدر ہاشمی رفسنجانی کے ساتھ تھا۔ انتخابی مہم کے دوران احمدی نژاد حکومتی پروٹوکول کا تمسخر اڑاتے اور ایرانی سیاسی پالیسیوں پڑ کڑی تنقید کرتے ہوئےانہیں بدلنے کا اعلان کرتے۔ ایسے ہی ان دنوں امریکی صدارتی امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ کررہے ہیں۔ انہیں بھی امریکا کی موجودہ خارجہ اور داخلہ پالیسیاں ناپسند ہیں اور وہ آئے روز اپنی تقریروں میں ان پر تنقید کرتے ہیں۔ مبصرین کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ اور محمود احمدی نژاد میں یہی قدر مشترک انہیں ایران میں پسندیدہ قرار دیتی ہے۔

ایران میں محمود احمدی نژاد کی بہ صدر کامیابی نے ملک کو ایک ایسے المیے سے دوچار کیا جس کے نتیجے میں ملک بدترین عالمی اقتصادی پابندیوں کا شکار ہوگیا۔ کیا ڈونلڈ ٹرمپ امریکا کا صدر بن کراپنے ملک کے لیے احمدی نژاد ثابت ہوں گے۔

ایرانی ذرائع ابلاغ کے لب ولہجے سے بھی بہ خوبی یہ اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ ملک میں ڈونلڈ ٹرمپ کو کس طرح قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ ایرانی ہفتہ وار جریدے "صدا" نے اپنی سرورق اسٹوری پر احمدی نژاد کی ایک تصویر شائع کی ہے جس میں انہیں ہاتھ میں تلوار لہراتے دکھایا گیا ہے جب کہ پس منظرمیں محمود احمدی نژاد کو آہنی خول پہنے امریکی چرواہوں کے روپ میں دکھایا گیاہے۔

امریکی صدارتی انتخابات ایرانیوں کی نظرمیں

مبصرین کے خیال میں ایران میں عوامی سطح پر امریکا کے صدارتی انتخابات کو پچھلے سال تہران کے ساتھ طے پائے جوہری سمجھوتے کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔

مگر یہ سوال اپنی جگہ رہے کہ آیا براک اوباما کی جگہ لینے والا نیا امریکی صدر بھی ان کی پالیسیوں کو جاری رکھتے ہوئے تہران پر عاید اقتصادی پابندیاں اٹھانے کا حامی ہوگا؟

ایرانیوں کا خیال ہے کہ ہیلری کلنٹن کا تہران کے بارے میں رویہ براک اوباما سے کہیں زیادہ سخت ہے۔ اس لیے اگر وہ صدر منتخب ہوگئیں تو ایران اور امریکا کے درمیان دوبارہ کشیدگی بڑھ جائے گی۔

گوکہ امریکی صدارتی انتخابات کے حوالے سے غیرجانب داری کا مظاہرہ کرنے والے ایرانی حکمرانوں کو چار عشروں کے بعد امریکا میں اپنے پسند اور ناپسند کے امیدوار کو دیکھنے کی ضرورت محسوس ہو رہی ہے۔

ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی بھی صدارتی انتخابات پر اثر انداز ہوتی رہتی ہے۔ مثلا ایران میں امریکی یرغمالیوں کے بحران نے جمی کارٹر کی انتخابی مہم پر منفی اثرات مرتب کیے اور اس کا فایدہ رونلڈ ریگن کو پہنچا اور وہ ملک کے صدر بن گئے۔

ٹرمپ ایران کی ترجیح کیوں؟

ری پبلیکن صدارتی امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ کو اعتدال پسند امریکی حلقے بھی ان کے بعض بیانات بالخصوص اسلام مخالف ریمارکس پر کڑی تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں مگراس کے باجود ایران میں انہیں دوسرے امیدواروں کے مقابلے میں ترجیح دی جاتی ہے۔ ٹرمپ کو ترجیح دینے کا ایک اہم سبب ان کی مغرب پر کڑی تنقید ہے۔

جامعہ تہران کے استاد اور معروف تجزیہ نگار ناصر ھادیان نے فارسی اخبار’شرق‘ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ڈنلڈ ٹرمپ کے امریکی صدر بننے کا سب سے بڑا فایدہ ایران کو ہوگا۔

ھادیان کا کہنا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ اور مغرب کےایران بارے موقف میں یکسانیت نہیں۔ اس لیے اگر وہ وائیٹ ہاؤس کے نئے میزبان بن گئے توایران کے حوالے سے امریکا اور مغرب کی پالیسیوں کو ایک صفحے پر رکھنا مشکل ہوجائےگا۔ یوں مغرب ایران کے حوالے سے تضادات کا شکار ہوگا جس کا فایدہ تہران کو پہنچے گا۔