.

امریکی خلیج خنزیر دفع ہوجائیں: خامنہ ای

"اسرائیل کو 8 منٹ میں صفحہ ہستی سے مٹا سکتے ہیں"

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کے رہبر اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای نے خلیج عرب میں امریکی فوج کی موجودگی کو ایک بار پھر کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ امریکیوں کے لیے خلیج میں کوئی جگہ نہیں۔ امریکی کیوبا کے خلیج خنریر کی طرف دفع ہو جائیں اور وہاں جو مرضی کریں۔

خیال رہے کہ خامنہ ای کا اشارہ کیوبا کے جنوبی ساحل کے خیلج خنزیر [Bay of Pig] کی جانب تھا جہاں سنہ 1960ء میں امریکیوں نے کیوبا کے صدر فیڈل کاسٹرو کا تختہ الٹنے میں ناکام بغاوت میں مدد کے لیے اپنی فوجیں اتاریں تھیں۔ امریکیوں کو اپنے اس اقدام پر ناکامی اور عالمی جگ ہنسائی کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

خبر رساں ایجنسی "ارنا" کے مطابق گذشتہ روز اساتذہ اور طلباء کے ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے خامنہ ای نے کہا کہ امریکیوں کے لیے خلیج فارس میں فوجی مشقوں کا کوئی جواز نہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’’یہ لوگ [امریکی] سات سمندر پار سے یہاں جنگی مشقوں کے لیے آئے ہیں۔ میں انہیں کہتا ہوں کہ وہ یہاں سے دفع ہو جائیں، جو کچھ کرنا ہے خلیج خنزیر میں جا کر کریں۔"

خامنہ ای کا کہنا تھا کہ ایران کو اپنے دشمنوں کے خلاف اپنی طاقت کے اظہار کا کوئی موقع سےجانے نہیں دینا چاہیے۔ اگر ہم دشمن کے سامنے اپنی طاقت ظاہر نہیں کریں گے تو وہ اور بھی اپنی طاقت کے نشے میں گھمنڈ کا شکار ہو جائے گا۔

خیال رہے کہ ایرن اور امریکا کے درمیان کئی عشروں سے جاری سرد جنگ میں پچھلے سال طے پائے جوہری سمجھوتے کے بعد برف پھگلنا شروع ہوئی تھی مگر حال ہی میں امریکا کی عدالتوں کی جانب سے سنہ 1983ء میں بیروت اور سنہ 2001ء میں نیویارک میں دہشت گردی کے واقعات میں تہران کو مورد الزام ٹھہرا کر اربوں ڈالر ہرجانہ کی ادائی کا حکم دیا تو دونوں ملکوں میں کشیدگی ایک بار پھر شدت اختیار کرگئی ہے۔

دشمنوں کو سنگین نتائج کی دھمکیوں کے حوالے سے بھی ایران پیش پیش رہا ہے۔ حال ہی میں پاسداران انقلاب کے ایک سینیر عہدیدار جنرل عظیم رحیم بور نے دعویٰ کیا تھا کہ ان کا ملک خطے میں موجود امریکا کی 1200 تنصیبات کو 48 گھںٹوں میں نیست ونابود کر سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل کو صفحہ ہستی سے مٹانے کے لیے صرف 8 منٹ درکار ہیں۔