مذاکرات کا دروازہ بند نہیں کریں گے: یمنی حکومت

عالمی برادری باغیوں کو جنگ بندی کا پابند بنائے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

یمنی حکومت نے کویت کی ثالثی کے تحت باغیوں کے ساتھ جاری امن مذاکرات جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا ہے اور ساتھ ہی عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ باغیوں کو جنگ بندی کا پابند اور محاصرہ زدہ شہروں کا محاصرہ ختم کرنے کے لیے دباؤ ڈالے۔

یمن کے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ عبدالملک المخلافی نے’’العربیہ‘‘ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اقوام متحدہ اور عالمی برادری سمیت ان تمام ملکوں کے سفیروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ حوثی باغیوں کو جنگ بندی کا پابند بناتے ہوئے شہروں کا محاصرہ ختم کرائیں اور براہ راست بات چیت سے قبل تمام سیاسی قیدیوں کو رہا کریں۔

ایک سوال کے جواب میں یمنی نائب وزیراعظم کا کہنا تھا کہ امن بات چیت آگے بڑھانے کے لیے یمنی حکومت کویت میں جاری مذاکرات سے پیچھے نہیں ہٹے گی اور نہ ہی مذاکراتی مساعی سے دستبردار ہوگی۔ یمن میں قیام امن کی خاطر حکومتی وفد کے اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی، 18 ملکوں کے سفیروں اور خلیج تعاون کونسل کے مندوبین کے ساتھ صلاح مشورہ جاری رکھے گی۔

المخلافی کا مزید کہنا تھا کہ حکومت یمن میں دیر پا اور وسیع ترقیام امن کی خواہاں ہے۔ ہم تمام حل طلب مسائل کو اقوام متحدہ کی قرارداد 2216 کی روشنی میں حل کرنے کے خواہاں ہیں۔ حوثی ملیشیا کا ریاستی اداروں سے انخلاء، ریاستی اداروں اور مسلح افواج کے مراکز کی حکومت کو واپسی اور باغیوں کے ہتھیار ڈالنے کے مطالبات پر ہر صورت میں عمل درآمد یقینی بنایا جانا چاہیے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں