کویت: یمنی متحارب فریقوں میں براہ راست مذاکرات بحال

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

کویت میں امریکا کی ثالثی میں یمنی حکومت اور حوثی باغیوں کے وفود کے درمیان تین دن کے وقفے کے بعد براہ راست امن مذاکرات بحال ہوگئے ہیں۔یمنی حکومت کے وفد نے اتوار کو حوثی باغیوں کے صنعا کے شمال میں ایک فوجی اڈے پر حملے اور قبضے کے بعد براہ راست بات چیت معطل کردی تھی۔

اقوام متحدہ کے یمن کے لیے خصوصی ایلچی اسماعیل ولد شیخ احمد نے ٹویٹر پر بات چیت میں شریک وفود کی تصویر جاری کی ہے اور کہا ہے کہ بدھ کو مذاکرات میں جنگ بندی کو برقرار رکھنے پر توجہ مرکوز کی جائے گی۔

عالمی ایلچی کے بہ قول طرفین نے اس بات سے اتفاق کیا ہے کہ 11 اپریل سے جنگ بندی کی نگرانی کرنے والی کمیٹی حوثی باغیوں کے شمالی صوبے عمران میں واقع العمالقہ بیس پر قبضے کی تحقیقات کرے گی۔یہ کمیٹی 72 گھنٹے میں اپنی رپورٹ پیش کرے گی،عملی سفارشات مرتب کرے گی اور تمام فریق ان کی پاسداری کے پابند ہوں گے۔

یمنی حکومت کے وفد کے سربراہ وزیر خارجہ عبدالملک المخلافی نے حوثی باغیوں کے فوجی اڈے سے انخلاء کا مطالبہ کیا ہے۔درایں اثناء اقوام متحدہ نے جنگ بندی کی نگرانی کرنے والی کمیٹیوں کو مضبوط بنانے پر زوردیا ہے۔خاص طور پر یمن کے تیسرے بڑے شہر تعز میں جنگ بندی کی پاسداری پر زور دیا ہے جہاں یمنی حکومت کے وفادار فوجیوں کے علاوہ ہزاروں شہری گذشتہ کئی ماہ سے محصور ہیں اور حوثی باغیوں نے شہر کا گھیراؤ کررکھا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں