.

نیٹو کی اسرائيل کو "سرکاری بیورو" کی اجازت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

معاہدہ شمالی بحر اوقیانوس کے اتحاد (نیٹو) نے گزشتہ روز اسرائیل کو آگاہ کردیا ہے کہ وہ برسلز میں اتحاد کے صدر دفتر میں اپنا خصوصی سرکاری دفتر کھول سکتا ہے۔

اسرائیل کے مطابق نیٹو نے عبرانی ریاست کو اس امر سے مطلع کیا کہ وہ نیٹو کے لیے اپنے نمائندوں کے چناؤ کا عمل مکمل کرسکتا ہے۔ واضح رہے کہ ترکی نے پانچ سال قبل اس پیش رفت کو ویٹو کردیا تھا۔

اسرائیل نے اس تمام پیش رفت کو "اپنی وزارت خارجہ، وزارت دفاع اور قومی سلامتی کی کمیٹی کی مسلسل اور انتھک کوششوں کا نتیجہ قرار دیا"۔

اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کا کہنا ہے کہ " یہ ایک اہم اقدام ہے جس سے اسرائیل کا امن مضبوط ہوگا۔ یہ دنیا میں اسرائیل کے مقام کی ایک اور دلیل ہے اور ساتھ ہی اس بات کی بھی کہ بہت سے فریق سیکورٹی کے شعبے میں ہمارے ساتھ تعاون کے خواہش مند ہیں"۔

اس قدام کو اسرائیل اور ترکی کے درمیان مصالحت کے سلسلے میں پیش رفت قرار دیا جارہا ہے۔ انقرہ نے 2011 میں نیٹو کے صدر دفتر میں اسرائیلی بیورو کھولے جانے کی کوشش ناکام بنا دینے کا اعلان کیا تھا۔

دنوں ملکوں کے درمیان تعلقات اس وقت کشیدگی کی انتہا پر پہنچ گئے تھے جب اسرائیلی کمانڈوز نے ترکی کے اس بحری جہاز پر حملہ کر دیا تھا جو امدادی سامان لے کر محاصرہ توڑنے کی غرض سے غزہ کی جانب بڑھ رہا تھا۔