.

خشک سالی کے باعث زمبابوے میں جانوروں کی فروخت!

حکومت کو جنگلی حیات کے تحفظ کے لالے پڑ گئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مسلسل خشک سالی کے باعث زمبابوے کی حکومت نے جنگلی حیات کی نسل بچانے کے لیے جانوروں کو شہریوں کو فروخت کرنے پرمجبور ہونا پڑا ہے۔

خبر رساں اداروں کے مطابق زمبابوے کی پارک اتھارٹی کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ خشک سالی کے باعث جانور بھوک اور پانی کی عدم دستیابی کے نتیجے میں ہلاک ہو رہے ہیں۔

حکومت کی جانب سے جاری کردہ اعلان میں کہا گیا ہے کہ جو شہری جانور خرید کران کی کفالت کرسکتے ہیں وہ حکومت سے جانور خرید لیں تاکہ خشک سالی کے باعث جانوروں کی زندگیاں اور ان کی نسلیں بچائی جاسکیں۔

زمبابوے کی پارک اتھارٹی کی ترجمان کیرولین وساشایا نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’’ایل نینیو‘‘ نامی خشک سالی کے بحران کے پیش نظر حکومت جانوروں کی زندگیاں بچانے کے لیے کوئی اور اعلان کرنے پر بھی مجبور ہوسکتی ہے۔ تاہم انہوں نے اس حوالے سے مزید تفصیلات نہیں بتائیں۔

زمبابوے میں ماحولیاتی شعبے میں سرگرم کارکن اور نیشنل پارک اتھارٹی کے سابق ڈائریکٹر جیری گوتورا نے بتایا کہ حکومت پارکوں کو بچانے کے لیے پانی کے حصول کی خاطر جانور فروخت کررہی ہے تاکہ جانوروں کی فروخت سے حاصل ہونے والی رقم کو بچ جانے والے پارکوں اور ان میں موجود جانوروں کے لیے پانی ضرورت پوری کی جاسکے۔

خیال رہے کہ زمبابوے میں خشک سالی کی طویل لہر نے غذائی قلت پیدا کردی ہے جس کے نتیجے میں ملک کی ایک چوتھائی آبادی براہ راست متاثر ہوئی ہے۔

گیری گوتورا نے بتایا کہ ملک سنہ 1992ء کے بعد سے بدترین خشک سالی کا سامنا کررہا ہے جس کے نتیجے میں پارکوں اور چڑیا گھروں میں رکھے ہزاروں جنگی جانور ہلاک ہوچکے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ حکومت جانوروں کو اونے پونے فروخت کرکے ان کی نسل بچانا چاہتی ہے۔