.

داعش کا خطرناک آسٹریلوی جنگجو عراق میں ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

آسٹریلیا سے تعلق رکھنے والا دولت اسلامیہ عراق وشام (داعش) کا خطرناک جنگجو عراق میں امریکا کے ایک فضائی حملے میں ہلاک ہوگیا ہے۔

آسٹریلیا کے اٹارنی جنرل جارج برانڈیس نے جمعرات کو ایک بیان میں نیل پرکاش المعروف ابو خالد الکمبودی کی ہلاکت کی اطلاع دی ہے اور کہا ہے کہ امریکا نے گذشتہ جمعے کو عراق کے شمالی شہر موصل میں ایک فضائی حملے میں اس کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔

اس چوبیس سالہ آسٹریلوی شہری کے والدین اور آباء واجداد فجی اور کمبوڈیا سے تعلق رکھتے تھے۔اس نے سنہ 2012ء میں بدھ مت کو چھوڑ کر اسلام قبول کیا تھا اور اسی سال شام چلا گیا تھا۔

وہ آسٹریلوی شہر میلبورن سے تعلق رکھتا تھا اور ایک سابق گلوکار تھا۔وہ داعش کی متعدد ویڈیوز میں نمودار ہوا تھا۔وہ اسٹریلیا میں دہشت گردی کے متعدد حملوں کی منصوبہ بندی میں بھی ملوّث رہا تھا۔

برانڈیس نے آسٹریلوی براڈ کاسٹنگ کارپوریشن ریڈیو کو بتایا ہے کہ پرکاش ایک اہم اور ہائی ویلیو ہدف تھا۔وہ سب سے خطرناک آسٹریلوی تھا جو مشرق وسطیٰ میں داعش کی سرگرمیوں میں ملوّث تھا۔

انھوں نے مزید بتایا ہے کہ امریکا نے شام میں ایک پندرہ سالہ آسٹریلوی طالب علم کی بہن کی ہلاکت کی بھی تصدیق کی ہے۔اس لڑکے نے گذشتہ سال اکتوبر میں سڈنی میں ایک پولیس اسٹیشن کے باہر ایک پولیس اکاؤٹینٹ کو فائرنگ کرکے قتل کردیا تھا۔ بعد میں پولیس نے بھی اس کو گولی مار کر ہلاک کردیا تھا۔

اس کی بہن کا نام شادی جبار خلیل محمد تھا اور وہ اپنے بھائی فرہاد جبار کی ہلاکت سے ایک روز قبل آسٹریلیا سے شام چلی گئی تھی۔وہ اور اس کا سوڈانی خاوند ابو سعد السودانی شام کے قصبے الباب میں 22 اپریل کو امریکا کے ایک فضائی حملے میں ہلاک ہوگئے تھے۔ان دونوں نے داعش کے لیے غیرملکی جنگجوؤں کو بھرتی کیا تھا اور انھیں مغربی اہداف پر حملوں کی ترغیب دی تھی۔

مسٹر برانڈیس کا کہنا ہے کہ حکام کے اندازے کے مطابق اس وقت مشرق وسطیٰ میں قریباً 110 آسٹریلوی داعش کی صفوں میں شامل ہوکر لڑرہے ہیں۔