.

شامی مفتی کا ایران وترکی کے لیے حلال وحرام کا پیمانہ الگ!

عربی سے نابلد خلافت عثمانیہ کا اسلام مشکوک قراردیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام کے سرکاری مفتی احمد بدر الدین حسون اپنے متنازع بیانات کی بناء پر ماضی میں کافی بدنام رہے ہیں۔ انہوں نے ایک نئی درفنتی چھوڑتے ہوئے ترکی کی خلافت عثمانیہ کے اسلام کو بھی مشکوک قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ عثمانی ترکوں نے حقیقی معنوں میں اسلام قبول کیا ہوتا تو وہ عربی زبان بولتے مگرعربی زبان اختیار نہ کرنے پر ان کا اسلام بھی مشکوک ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کےمطابق ڈاکٹر احمد بدر الدین حسون نے اپنے ٹیلیفونک انٹرویو میں ترکی کے لیے جو چیز حرام ٹھہرائی ہے وہی وہ ایران کے لیے جائز قرار دے چکے ہیں۔ ان کا یہ دعویٰ کہ اسلام قبول کرنے کے لیے عربی زبان اختیار کرنا ناگزیر ہے مگر وہ یہ فارمولہ ایران پر منطبق نہیں کرتے۔

شامی اپوزیشن کے ہاں ’اسدی مفتی‘ اور ’درباری مفتی‘ کے القابات سے مشہور علامہ بدرالدین حسون نے کہا کہ اگر عثمانی ترکوں کا یہ دعویٰ کہ وہ مسلمان ہیں تو انہیں قرآن کی زبان [عربی] کو اپنانا چاہیے تھا مگر ایسا نہیں ہوا۔ ترکوں نے اسلام قبول کیا اور عربی زبان سے نفرت کی ہے۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ اسدی مفتی جس اصول کا اطلاق ترکی کے لیے لازمی قرار دے رہے ہیں وہ تمام مسلمان ملکوں پر نافذ نہیں کرسکتے کیونکہ اس وقت کئی ایسے ممالک کرہ ارض پرموجود ہیں جہاں مسلمانوں کی اکثریت ہے مگر وہ عربی زبان سے واقف نہیں۔ یہاں تک کہ ایران جس کی تعریف و توصیف میں مفتی حسون رطب اللسان رہتے ہیں، میں بھی عربی زبان نہیں اپنائی گئی۔ کیا وہ خلافت عثمانیہ والا اصول ایران پر بھی منطبق کرسکیں گے؟

اپنی تقاریر اور خطبات میں شام کے سرکاری مفتی صاحب ایران کی اسلامائیزیشن کو پوری دنیا کے لیے رول ماڈل کے طور پر پیش کرتے رہتے ہیں مگر وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ ایران میں قرآن کی زبان [عربی] سے کس حد تک نفرت پائی جاتی ہے۔

مفتی حسون کا یہ انٹرویو ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے وہ حال ہی میں بھارت کے طویل دورے سے واپس ہوئے ہیں۔ بھارت میں قیام کے دوران انہوں نے عربی زبان میں بات کی اور اس کا ترجمہ ہندی میں کیا جاتا رہا۔ اس کے باوجود وہ بھارتی مسلمانوں کے اسلام سے انکاری نہیں ہوئے۔ مگر ترکوں کے حوالے سے انہیں اچانک یہ خیال آیا کہ وہ چونکہ عربی زبان سے نابلد ہیں اس لیے ان کا اسلام بھی مشکوک ہے۔