.

شام اور لبنان میں حزب اللہ کے "کیمیائی ہتھیار"؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام میں اپوزیشن کے ارکان نے حزب اللہ پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ اپوزیشن کے زیرکنٹرول علاقوں پر ایک بار پھر کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال میں شامی حکومت کے ساتھ ملوث ہے۔

روزنامہ "الشرق الاوسط" کے مطابق جیش الحر کی عسکری کونسل کے رکن ابو احمد العاصمی نے حزب اللہ کے پاس کیمیائی ہتھیار ہونے کو خارج از امکان قرار نہیں دیا اس لیے کہ شامی حکومت جس کے شانہ بشانہ حزب اللہ لڑرہی ہے، اس کے پاس پہلے ہی اس نوعیت کے ہتھیار ہیں جو وہ شام میں متعدد علاقوں میں استعمال کرچکی ہے۔

العاصمی کے مطابق "حلب اور الغوطہ کے بعض حصوں میں کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال ثابت ہوچکا ہے اور یہ وہ علاقے ہیں جہاں حزب اللہ واضح طور پر موجود ہے۔"

یہ موقف امریکا میں "اسٹریٹفور" مرکز کی جانب سے جاری اس رپورٹ کے بعد سامنے آیا ہے جس میں القلمون کے علاقے میں حزب اللہ کی مشکوت نقل و حرکت اور تجہیز کی جانب اشارہ کیا گیا تھا۔ اس کے علاوہ الزبدانی میں اڈے نما مقام کی تعمیر جس سے معلوم ہوتا ہے کہ حزب اللہ وہاں اپنی مستقل موجودگی کا ارادہ رکھتی ہے۔ مغربی دنیا کی رپورٹوں میں بھی اس بات کا حوالہ دیا گیا تھا کہ حزب اللہ بڑی اور طویل سرنگوں کا ایک جال تیار کررہی ہے جو مشرقی سرحد کے ذریعے لبنان کو شام سے مربوط کر دے گا۔

مذکورہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مصنوعی سیاروں کی جانب سے لی گئی تصاویر سے لبنان کی سرحد کے قریب شامی شہر القصیر کے نزدیک حزب اللہ کے ایک بڑے فوجی اڈے کی تصدیق ہوتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق اس اڈے میں گولہ بارود کے کم از کم 4 کارخانے شامل ہیں۔ اس سے حزب اللہ کے مستقبل کے منصوبے کو تقویت ملتی ہے جس کے مطابق حزب اللہ کے 3000 کے قریب جنگجو مستقل طور پر شام میں رہیں گے۔