.

ننگ دھڑنگ گاہک لندن ریستوران میں داخلے کے خواہشمند!

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

برطانوی دارالحکومت لندن میں جمعرات کے روز ایک تاریخ رقم ہونے جا رہی ہے جہاں 86 لاکھ آبادی والا شہر پہلی مرتبہ کسی مسلمان کو میئر کے عہدے کے لیے منتخب کرے گا۔ جی ہاں انتخابات سے قبل تک کی سروے رپورٹوں کے مطابق پاکستانی نژاد صادق امان اللہ خان کو اپنے یہودی مقابل زیک گولڈاسمتھ پر برتری حاصل ہے لہذا جمعرات کے روز ہونے والے انتخابات میں ان کی جیت یقینی نظر آرہی ہے۔ تاہم دین ِ اسلام سے تعلق رکھنے والے خان کو آنے والے دنوں میں کڑے حالات کا سامنا ہوسکتا ہے۔ ان کی 4 سالہ میئرشپ کے پہلے ہی ماہ یعنی رواں سال جون میں لندن میں برہنہ لوگوں کے پہلے ریستوران کا افتتاح ہوگا۔

صرف ایک خبر سے ہی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ دنیا کے معزز ترین اور قدامت پسند شہروں میں شمار کیے جانے والے اس دارالحکومت پر عریانیت اور حدود و قیود سے آزادی کی ہوس کس حد تک چھا چکی ہے۔ افتتاح سے ایک ماہ قبل ہی Bunyadi ریستوران میں بیٹھ کر کھانا کھانے کی بکنگ کرانے والوں کی تعداد (آج) جمعرات کی صبح تک 33 ہزار 680 سے زیادہ ہوچکی تھی۔ ریستوران میں 42 افراد کے بیٹھ کر کھانے کی گنجائش ہے اور یہ صرف موسم گرما کے 3 ماہ کام کرے گا۔ اس دوران 3780 افراد یہاں کا دورہ کرسکیں گے۔ لہذا تازہ ترین بکنگ کرانے والے خواتین و حضرات کی باری تقریبا 9 برس بعد ہی آ سکے گی۔

گاہکوں کی خدمت پر مامور ویٹرز اور عملے کے دیگر ارکان بھی ریستوران میں برہنہ حالت میں نمودار ہوں گے۔ ریستوران میں سب سے کم قیمت کھانا بھی 70 ڈالر کی قیمت کے مساوی ہے۔ اگر کوئی لباس کے ساتھ کھانا تناول فرمانا چاہے گا تو اس کو اتنی ہی رقم مزید ادا کرنا ہوگی۔ تاہم ایسے افراد کو برہنہ لوگوں سے علاحدہ حصے میں بٹھایا جائے گا جس طرح کے دیگر ریستورانوں میں ہوتا ہے۔

ہر قسم کی قید سے آزادی

ریستوران میں کھانا تناول فرمانے والے لوگوں کے جسموں پر پتے بھی نہیں ہوں گے لہذا ان کو ایسا محسوس ہوگا گویا کہ وہ "نینڈرتهال" انسانوں کے دور میں پہنچ گئے ہیں جن کا تقریبا 3 ہزار سال تک کرہ ارض پر بقاء رہا۔ ریستوران کی ویب سائٹ پر فراہم کردہ معلومات کے مطابق انتظامیہ اپنے گاہکوں کو "نینڈرتهال" کی طرح مکمل طور پر برہنہ حالت میں ہی کھانا کھانے کی اجازت دے گی جس طرح کہ یہ قدیم انسان 24 ہزار برس قبل اپنے معدوم ہونے سے پہلے کھایا کرتا تھا۔

"بنيادی" ریستوران کے گاہک اسی قدیم انسان کی طرح ایسی نشستوں پر براجمان ہوں گے جس طرح اس زمانے میں درختوں کے کٹے ہوئے تنوں پر بیٹھنے کا طریقہ ہوتا تھا۔ گاہکوں کو کھانا بھی لکڑی اور مٹی کے برتنوں میں پیش کیا جائے گا۔ ایک میز پر بیٹھے افراد کے گرد رسیوں کی دیوار ہوگی تاکہ دوسری میزوں پر بیٹھے گاہکوں کی نظر میں نہ آسکیں اور گاہکوں کی "خلوت" باقی رہے۔ تمام ہی گاہک ایسی چیزوں سے خالی ہوں گے جن سے ان کے جدید زمانے میں ہونے کا شائبہ بھی ہوسکے یعنی کہ جوتوں، موبائل فون، کپڑوں، گاڑی کی چابیوں، بجلی اور گیس کے بلوں، نقدی، کریڈٹ کارڈ ان سب اشیاء سے کلی طور پر آزاد!

پتھروں کے دور کے برہنہ انسانوں کے لیے مٹی کے برتن

ریستوران ڈیزائن کرنے والے شخص کا کہنا ہے کہ لوگوں کو چاہیے کہ وہ اس تجربے سے لطف اندوز ہونے کا موقع ضرور حاصل کریں جہاں کوئی کیمیائی مواد، مصنوعی رنگ، بجلی، گیس، فون یہاں تک کہ لباس بھی نہ ہوگا اگر کوئی حقیقی طور پر آزادی کا تجربہ کرنا چاہتا ہے۔

"بنيادی" میں کھانا بھی اسی طریقے سے ملتے جلتے انداز میں تیار کیا جائے گا جیسا کہ ہزاروں سال قبل پتھروں کے دور کا انسان پکاتا تھا۔ قدرتی آگ کے لیے لکڑیوں کو جلایا جائے گا اور گوشت اور مچھلی کو اسی پر بھونا جائے گا۔ برہنہ گاہکوں کے استعمال میں آنے والی اشیاء ہاتھ سے بنی ہوئی اور لکڑی اور مٹی کی ہوں گی۔ اس کے علاوہ کھانا آگ اور موم بتیوں کی روشنی میں کھایا جائے گا جہاں کیمرے کا استعمال ممنوع ہوگا۔

لندن میں اس بات کی توقع کی جارہی ہے کہ ریستوران کے بانی Seb Lyall ایک انتہائی درجے کی سنسنی پھیلانے جارہے ہیں۔ انہوں نے ایک سال قبل ایک کیفے کا افتتاح کیا تھا جس کو "الوؤں کیفے" نام دیا گیا تھا۔ اس کے اندر الوؤں اور دیگر پرندوں کو بھر دیا گیا تھا۔ بعد ازاں قدرتی زندگی کے تحفظ سے متعلق کمیٹیوں نے اس منصوبے پر شدید تنقید کی اور لندن کے میئر بورس جانسن پر اس کا پرمٹ جاری کرنے کے سبب کڑی نکتہ چینی کی۔ تاہم یہ کیفے کھلا رہا اور گاہک ابھی تک اس میں آ کر دیکھتے ہیں کہ پرندے یہاں کس طرح مکمل مانوسیت اور پالتو ماحول میں رہتے ہیں۔ لندن کی میئرشپ "بنيادی" ریستوران کی وجہ سے ایک مرتبہ پھر شدید تنقید کی لپیٹ میں آئے گی تاہم فرق صرف اتنا ہوگا کہ لندن کا نیا میئر اس مرتبہ شاید مسلمان ہو۔