.

مستعفی ہو کر پارٹی سربراہی کے لیے نامزد نہیں ہوں گا : اوگلو

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترکی کے وزیراعظم احمد داؤد اوگلو نے جمعرات کے روز اس امر کی تصدیق کی ہے کہ وہ 22 مئی کو جسٹس اینڈ ڈیولپمنٹ پارٹی کی خصوصی کانفرنس کے دوران خود کو نئی مدت کے لیے بطور امیدوار پیش نہیں کریں گے۔ اوگلو کا یہ بیان صدر رجب طیب ایردوآن کے ساتھ انتہائی درجے کے اختلافات کے پس منظر میں سامنے آیا ہے۔

جسٹس اینڈ ڈیولپمنٹ پارٹی کے صدر دفتر میں صحافیوں سے خطاب کرتے ہوئے اوگلو کا کہنا تھا کہ "جب تک کوئی آمادگی نہیں ہوتی میں خود کو جسٹس اینڈ ڈیولپمنٹ پارٹی کی سربراہی کے لیے بطور امیدوار پیش نہیں کروں گا"۔

اس موقع پر اوگلو نے پارٹی ارکان پر زور دیا کہ وہ کسی بھی قسم کی تقسیم اور ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہونے سے بچیں۔ انہوں نے باور کرایا کہ ترکی کے صدر رجب طیب ایردوآن کے ساتھ ان کے تعلقات مضبوط ہیں جنہیں وہ کسی طور خراب کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔ اوگلو کے مطابق جسٹس اینڈ ڈیولپمنٹ پارٹی کے سربراہ کی تبدیلی کا مقصد پارٹی کی طاقت کو برقرار رکھنا ہے۔

احمد داؤد اوگلو کا کہنا تھا کہ وہ دو ہفتے بعد منعقد ہونے والی پارٹی کانفرنس میں بطور وزیراعظم استعفی پیش کردیں گے۔ انہوں نے زور دیا کہ پارٹی کی حکومت باقی رہے گی اور ترکی کے استحکام کی حفاظت کرے گی۔

انہوں نے اس جانب توجہ دلائی کہ "جسٹس اینڈ پیس پارٹی" ملک میں قبل از وقت انتخابات کرائے گی۔ ساتھ ہی انہوں نے پارٹی کا ازسرنو جائزہ لینے کی کارروائی پر بھی زور دیا۔

واضح رہے کہ جسٹس اینڈ پیس پارٹی کے پانچ سینئر ذمہ داران نے بدھ کے روز ایک غیرملکی نیوز ایجنسی کو انکشاف کیا تھا کہ پارٹی آئندہ ہونے والی کانفرنس میں داؤد اوگلو کو اپنا سربراہ بنانا چاہتی ہے اور بعد ازاں انہیں وزیراعظم کے طور پر بھی دیکھنا چاہتی ہے۔

واضح رہے کہ داؤد اوگلو نے ایردوآن کی جانب سے صدارتی ادارے کو مضبوط کرنے کے ویژن کے سلسلے میں سردمہری کے ساتھ اپنی حمایت کا اظہار کیا تھا۔ اوگلو کو ہٹانے کا فیصلہ کئی ہفتوں سے جاری کشیدگی کے بعد سامنے آیا ہے۔ ایسا نظر آتا ہے کہ اوگلو کے بعد وزیراعظم بننے والی شخصیت ایردوآن کے اس مقصد کی حمایت کے لیے زیادہ تیار ہوگی جس کے تحت وہ صدارتی نظام کے قیام کے لیے آئین میں تبدیلی چاہتے ہیں۔ اس اقدام کے مخالفین کا موقف ہے کہ اس طرح جور و استبداد میں مزید اضافہ ہوگا۔