.

القاعدہ کے جنگجوؤں کا یمن کے دو جنوبی شہروں سے انخلاء

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن میں القاعدہ کے جنگجوؤں نے قبائلی زعماء کی مداخلت اور کئی ہفتے کی ثالثی کے بعد دو جنوبی شہروں سے پُرامن طور پر انخلاء شروع کردیا ہے۔

مقامی لوگوں کے مطابق القاعدہ کے جنگجو جنوب مغربی صوبے ابین کے دو شہروں زنجبار اور جعار سے اپنے ہتھیاروں سمیت نواحی علاقوں کی جانب جارہے ہیں۔سعودی عرب کی قیادت میں عرب اتحاد کی مدد سے یمنی فوج ان دونوں شہروں میں القاعدہ کے خلاف کارروائی کرنے کی منصوبہ بندی کررہی تھی لیکن بیچ میں قبائلی زعماء نے پڑ کر القاعد؛ہ کے جنگجوؤں کو ان دونوں شہروں کو پُرامن طور پر خالی کرنے پر آمادہ کر لیا ہے۔

اس سے پہلے یمنی فوج نے گذشتہ ماہ ساحلی شہر المکلا کو لڑائی کے بعد القاعدہ کے جنگجوؤں سے خالی کرالیا تھا اور اس شہر سے پسپائی کے بعد القاعدہ روزانہ اوسطاً بیس لاکھ ڈالرز کی آمدن سے محروم ہوگئی ہے جو اس کو تیل کی اسمگلنگ اور بندرگاہ سے محصولات کی مد میں حاصل ہورہی تھی۔

سعودی اتحاد کے لڑاکا طیاروں نے المکلا میں موجود فوجیوں کے ساتھ رابطے کے ذریعے القاعدہ کے جنگجوؤں پر بھرپور فضائی حملے کیے تھے جن کے نتیجے میں سیکڑوں جنگجو ہلاک ہوگئے تھے اور باقی نے وہاں سے راہ فرار اختیار کرنے میں عافیت جانی تھی۔

واضح رہے کہ یمن میں القاعدہ کے جنگجوؤں نے اپریل 2015ء میں سرکاری فورسز کی پسپائی کے بعد المکلا پر قبضہ کر لیا تھا۔ ستمبر2014ء میں حوثی شیعہ باغیوں کے دارالحکومت صنعا پر قبضے کے بعد القاعدہ کے جنگجو کھل کر سامنے آگئے تھے اور انھوں نے المکلا اور بعض دوسرے جنوبی اور جنوب مشرقی شہروں پر قبضہ کر لیا تھا۔سعودی عرب کی قیادت میں اتحاد مارچ 2015 ء سے یمن میں حوثیوں کے علاوہ القاعدہ کے جنگجوؤں کو بھی اپنے فضائی حملوں میں نشانہ بنا رہا ہے۔ اس جنگ میں گذشتہ ڈیڑھ ایک سال کے دوران 6200 سے زیادہ افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔

گذشتہ ایک سال کے دوران المکلا اور دوسرے شہروں میں القاعدہ کے جنگجوؤں پر متعدد ڈرون اور فضائی حملے کیے گئے ہیں۔امریکا کی سنٹرل انٹیلی ایجنسی (سی آئی اے) کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ یمن میں القاعدہ کے ٹھکانوں پر بغیر پائیلٹ جاسوس طیاروں سے میزائل حملے کررہی ہے لیکن امریکا نے ان حملوں کی کبھی تصدیق کی ہے اور نہ ذمے داری قبول کی ہے۔

امریکا یمن میں جزیرہ نما عرب میں القاعدہ کی شاخ کو سب سے خطرناک جنگجو گروپ خیال کرتا ہے۔اس گروپ نے سابق یمنی صدر علی عبداللہ صالح کے خلاف عوامی احتجاجی تحریک کے دوران فائدہ اٹھایا تھا اور ملک کے مشرقی اور جنوب مشرقی صوبوں میں اپنے قدم جما لیے تھے۔