.

نام:امریکی عدالت کا ایران مخالف فیصلہ عالمی قانون کے منافی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایک سو بیس رکن ممالک پر مشتمل غیر وابستہ تحریک ( نام) نے امریکا کی عدالت عظمیٰ پر ایران مخالف فیصلہ دینے پر بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی کا الزام عاید کیا ہے۔امریکی سپریم کورٹ نے ایران کے منجمد اثاثوں میں سے قریباً دو ارب ڈالرز کی رقم دہشت گردی سے متاثرہ امریکیوں کو دینے کا حکم دے رکھا ہے۔

ایران کی سربراہی میں نام تنظیم کے رابطہ بیورو نے جمعرات کو ایک اعلامیہ جاری کیا ہے اور اس میں کہا ہے کہ امریکا کی جانب سے خود مختار ریاستوں اور ان کے اداروں کے استثنیٰ کو ختم کیا جانا عالمی معاہدوں کے تقاضوں کی خلاف ورزی ہے۔

تنظیم نے امریکا پر زوردیا ہے کہ وہ ''ریاستی استثنیٰ کے اصول کا احترام کرے''۔اس نے خبردار کیا ہے کہ ''اگر وہ اس میں ناکام رہتا ہے تو اس کے منفی مضمرات ہوں گے اور بین الاقوامی تعلقات میں غیر یقینی اور افراتفری کی صورت حال جنم لے سکتی ہے۔امریکا کی جانب سے عالمی تقاضوں کی پاسداری نہ کرنے سے بین الاقوامی سطح پر قانون کی حکمرانی کو نقصان پہنچے گا اور اس کو عالمی سطح پر ایک غلط اقدام سمجھا جائے گا''۔

اقوام متحدہ میں ایران کے سفیر غلام علی خسرو نے سیکریٹری جنرل بین کی مون سے کہا ہے کہ وہ نام کے بیان کو جنرل اسمبلی اور سلامتی کونسل کے ارکان میں تقسیم کردیں۔نام نے اس بیان میں تنازعات کے پُرامن حل کے لیے محاذ آرائی کے بجائے ڈائیلاگ کی ضرورت پر زوردیا ہے۔

امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان مارک ٹونر نے اس کے ردعمل میں کہا ہے کہ امریکی قوانین اور عدالتوں کی جانب سے ان کا طلاق بین الاقوامی قانون کے عین مطابق ہے۔

امریکا کی عدالت عظمیٰ نے 23 اپریل کو ایران کے خلاف دہشت گردی میں ہلاک شدہ افراد کے خاندانوں کو قریباً دو ارب ڈالرز ہرجانے کے طور پر ادا کرنے کا فیصلہ برقرار رکھا تھا اور قرار دیا تھا کہ عدالتوں کے اختیار کو محدود کرنے کے لیے امریکی کانگریس کو قانون سازی کا کوئی حق نہیں ہے۔

استغاثہ کے مطابق یہ افراد ایران کی اسپانسر دہشت گردی میں ہلاک ہوئے تھے اور ایک وفاقی عدالت نے 2007ء میں ایران کو دہشت گردی کے متاثرین کو دو ارب ڈالرز ادا کرنے کا حکم دیا تھا۔عدالت عظمیٰ نے 241 میرینز کے خاندانوں کے حق میں چھے،دو کی اکثریت سے یہ فیصلہ سنایا تھا۔

یہ امریکی میرینز 1983ء میں لبنان کے دارالحکومت بیروت میں دہشت گردی کے حملے میں ہلاک ہوگئے تھے۔ان کے لواحقین اور دوسرے حملوں کے متاثرین نے ایران کے خلاف ہرجانے کا مقدمہ دائر کیا تھا۔ان کے وکلاء نے یہ مؤقف اختیار کیا تھا کہ ان متاثرین کو ایران کے مرکزی بنک کے منجمد اثاثوں سے یہ رقم ادا کی جائے۔

واضح رہے کہ ایران ان حملوں سے کسی قسم کے تعلق کی تردید کرچکا ہے۔اس نے اس فیصلے کے ردعمل میں اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بین کی مون سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ امریکا کو ریاستی استثنیٰ کی خلاف ورزی کرنے سے روکے۔ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف نے بین کی مون کو ایک خط لکھا تھا جس میں ان پر زوردیا تھا کہ وہ امریکی حکومت کو اپنی بین الاقوامی ذمے داریاں پوری کرنے پر آمادہ کرنے کے لیے اثرورسوخ استعمال کریں۔

ایرانی وزیر خارجہ نے بین کی مون سے اپیل کی تھی کہ وہ امریکی بنکوں میں ایران کے منجمد اثاثوں کے اجراء اور امریکا کو ایران کی بین الاقوامی تجارتی اور مالیاتی ترسیلات زر میں مداخلت سے روکنے کے لیے مدد دیں۔ اقوام متحدہ کے ترجمان اسٹیفن دوجارک کا کہنا ہے کہ اس خط کا ابھی جائزہ لیا جارہا ہے۔