.

یمن: شبوۃ گورنری میں 281 شہری ہلاک، 10 ہزار بے گھر ہوئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن میں انسانی حقوق کی تنظیموں کی جانب سے جاری کردہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ملک کے جنوب مشرقی علاقے شبوۃ میں مارچ 2015ء کے بعد سے اب تک حوثی باغیوں کے حملوں میں 281 عام شہری جاں بحق اور کم سے کم 10 ہزار افراد گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہوئے ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق ’’شبوۃ ہیومن رائٹس فاؤنڈیشن‘‘ کی جانب سے جاری کردہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مارچ 2015ء کو حوثی باغیوں اور مںحرف صدر علی عبداللہ صالح کی وفادار ملیشیا نے شبوۃ گورنری پر اپنا تسلط قائم کیا اور جارحیت کے دوران 281 شہریوں کو ہلاک کرنے کے ساتھ ساتھ دس ہزار شہریوں کو بے گھر کردیا گیا ہے۔ مارے جانے والے شہریوں میں بڑی تعداد خواتین اور بچوں کی بتائی جاتی ہے۔ حوثیوں کی غںڈہ گردی کے نتیجے میں کم سے کم 750 افراد زخمی اور معذور ہوچکے ہیں۔ ان میں ڈاکٹر،صحافی اور سماجی کارکن بھی شامل ہیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ شبوۃ گورنری پر قبضے کے بعد حوثیوں اور علی صالح کے وفاداروں نے 570 شہریوں کو ظالمانہ انداز میں اغواء کرکے انہیں قیدی بنایا جب کہ دوران حراست 184 شہریوں کو بدترین اذیتیں دی گئیں۔ حوثیوں اور علی صالح کے وفاداروں کی جانب سے شبوۃ گورنری میں بڑے پیمانے پر لوٹ مار کا بازار گرم کیا گیا۔ بنک، سرکاری املاک کے ساتھ ساتھ شہریوں کی املاک کو بھی مال غنیمت سمجھ کر لوٹا گیا۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ شبوۃ گورنری پرقبضے کے بعد حوثیوں نے وہاں کے سرکاری اور نجی شعبے میں کام کرنے والے ملازمین کی تنخواہوں کی 96 ملین ریال کی رقم غصب کی جب کہ 560 ملین ریال سرکاری اداروں،بنکوں اور دیگر مقامات سے لوٹے گئے۔