.

یمن مذاکرات کے لیے تین الگ الگ کمیٹیاں تشکیل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

کویت کی میزبانی میں یمنی حکومت اور باغیوں کے درمیان مذاکرات میں اہم پیش رفت ہوئی ہے جس کے بعد فریقین نے سیاسی اور سیکیورٹی مسائل کے ساتھ ساتھ قیدیوں کی رہائی کے لیے تین الگ الگ کمیٹیاں تشکیل دینے سے اتفاق کیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق یمن کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی اسماعیل ولد الشیخ احمد نے جمعرات کو صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ یمن میں حکومت اور باغیوں کے درمیان مشاورت کا سلسلہ جاری ہے اور فریقین نے مذاکرات کے ذریعے تنازع کے حل تک پہنچنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ کویت کی میزبانی میں ہونی بات چیت میں اہم پیش رفت یہ سامنے آئی ہے کہ فریقین نے سیاسی، سیکیورٹی اور قیدیوں جیسے حل طلب مسائل کے لیے تین الگ الگ کمیٹیاں تشکیل دینے سے اتفاق کیا ہے۔ یہ تینوں کمیٹیاں جلد ہی اپنے اپنے دائرہ کار میں رہتے ہوئے کام شروع کردیں گی۔

اقوام متحدہ کے امن مندوب کا کہنا تھا کہ یمن میں محاذ جنگ پر جاری لڑائی کے مذاکرات پر منفی اثرات مرتب نہیں ہونے چاہیں، کیونکہ معاملے کا حتمی حل مذاکرات اور سیاسی عمل کے ذریعے ہی ہوگا۔

اسماعیل ولد الشیخ کا کہنا تھا کہ بدھ اور جمعرات کے ایام میں یمن میں باغیوں کی جانب سے جنگ بندی کی متعدد خلاف ورزیاں سامنے آئی ہیں۔ ایسے واقعات بات چیت کی راہ میں مشکلات پیدا کرسکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ فریقین نے بات چیت کے دوران جنگ سے متاثرہ علاقوں میں امدادی کاموں کی بحالی سے اتفاق کیا ہے۔ ساتھ ہی اقوام متحدہ نے پورے یمن میں انسانی بحران کے اثرات کم کرنے اور صحت کی صورت حال بہتر بنانے کے لیے جامع پروگرام ترتیب دیا ہے۔

ایک سوال کے جواب میں ولد الشیخ کا کہنا تھا کہ سات یمنی خواتین مذاکرات میں شرکت کے لیے کویت پہنچی ہیں۔ اقوام متحدہ بات چیت اور یمن کے سیاسی عمل میں خواتین کی شمولیت کی حوصلہ افزائی کررہا ہے۔

ادھریمن کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق جمعرات کے روز کویت میں ہونے والے مذاکرات میں تین الگ الگ کمیٹیاں تشکیل دینے سے اتفاق کیا گیا ہے۔ سیکیورٹی سے متعلق امور کی نگراں کمیٹی باغیوں کے سرکاری تنصیبات پر قبضہ چھڑانے اور ہتھیار ڈالنے کے لیے کام کرے گی۔ حکومت کی جانب سے اس کمیٹی میں سول سروسز کے وزیر اور عبدالعزیز جباری، صدر کے مشیر محمد موسیٰ العامری، وزیر انصاف خالد باجنید، وزیر برائے پبلک افیئرز معین عبدالملک، وزیر مملکت برائے پارلیمانی امور عثمان مجلی اور سالم الخنبشی شامل ہیں۔

سیاسی کمیٹی جبری طور پر یرغمال بنائے گئے شہریوں کی رہائی کے لیے مذاکرات کرے گی جس میں حکومت کی طرف سے حقوق انسانی کے وزیر عزالدین الاصبحی، سیکرٹری وزارت لوکل گورنمنٹ مرفت مجلی شامل ہوں گی۔

قیدیوں کی رہائی پر اتفاق

کویت میں ہونے والی بات چیت میں یمنی فریقین نے اپنے ہاں قیدی بنائے گئے شہریوں کو رہا کرنے سے بھی اتفاق کیا ہے۔ آج جمعہ کے روز ہونے والے مذاکرات میں دونوں فریق قیدیوں کی اپنی اپنی فہرستیں بھی ایک دوسرے کےحوالے کریں گے۔ بات چیت کو آگے بڑھانے اور اعتماد کی فضاء سازگار بنانے کے لیے قیدیوں کی رہائی کو اہمیت کا حامل سمجھا جا رہا ہے۔

خیال رہے کہ کویت میں گذشتہ روز ہونے والے مذاکرات میں وزیرخارجہ عبدالملک المخلافی، صد کے مشیر یاسین مکاوی، وزیرصنعت وتجارت ڈاکٹر محمد السعدی، صدر کے ڈپٹی سیکرٹری عبدللہ العلیمی، خاتون وزیرقانون ڈاکٹر نھال العولقی اور سفیر شایع محسن موجود تھے۔