.

امریکی قرارداد میں "خلیج عربی" کے الفاظ پر ایران کا احتجاج

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران نے امریکی کانگریس میں پیش کی جانے والی قرارداد کے مسودے میں "خلیج عربی" کی عبارت استعمال کیے جانے پر سرکاری طور پر احتجاج کیا ہے۔ قرارداد میں واشنگٹن حکومت سے مطالبہ کا گیا ہے کہ وہ خلیجی پانی میں ایرانی سرگرمیوں کو روکنے کے لیے اقدامات کرے۔

سرکاری ایجنسی "ارنا" کے مطابق ایرانی وزارت خارجہ نے تہران میں سوئٹزرلینڈ کے سفارت خانے کو احتجاجی یادداشت حوالے کی جس میں "ایران میں امریکی مداخلت کے لہجے" اور خلیج کے لیے "جعلی نام کے استعمال" کی مذمت کی گئی ہے۔ واضح رہے کہ ایران خلیج عربی کے لیے "خلیج فارس" کی اصطلاح استعمال کرتا ہے۔

متعدد علاقائی تنظیموں کی جانب سے جاری قراردادوں میں خطے کے ممالک کے امور میں ایران کی مداخلت اور دہشت گرد تنظیموں کی سپورٹ کی مذمت کی جاچکی ہے۔ ان میں اسلامی تعاون تنظیم، خلیج تعاون کونسل اور عرب لیگ شامل ہیں۔

ایرانی وزارت خارجہ کا یہ اقدام امریکی پارلیمنٹ کے ریپبلکن رکن رینڈی فوربز کی جانب سے پیش کی گئی قرارداد کے خلاف احتجاجا سامنے آیا ہے۔ فوربز نے اپنی قرارداد کے مسودے میں "خلیج عربی" کے نام کو باور کرایا ہے۔

یاد رہے کہ ایران نے پاسداران انقلاب کے نائب کمانڈر حسین سلامی کی زبانی امریکی بحری جہازوں کے لیے آبنائے "ہرمز" کو بند کرنے کی دھمکی بھی دی ہے۔ یہ ردعمل امریکی کانگریس میں ایک نئی قرارداد کے منصوبے کے جواب میں سامنے آیا ہے۔ اس قرارداد کا مقصد تہران کی جانب سے نیوکلیئر وارہیڈ لے جانے والے بیلسٹک میزائلوں کے تجربے جاری رکھنے کے بعد ایران کے میزائل پروگرام پر نئی پابندیاں عائد کرنا ہے۔