.

امریکا نے یمن میں زمینی دستوں کی موجودگی کا اعتراف کرلیا

یمن میں امریکی فوجی سپورٹ کے طور پر موجود ہیں: پینٹاگون

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی محکمہ دفاع 'پینٹاگون' نے پہلی بار اعتراف کیا ہے کہ اس کے فوجی ایک سال قبل یمن میں شروع ہونے والی بغاوت کے آغاز سے ہی یمن میں تعینات ہیں تاکہ القاعدہ کی مقامی شاخ کے خلاف لڑائی میں عرب اور مقامی حکومتوں کی مدد کرسکیں۔

پینٹاگون کے ترجمان جیف ڈیوس نے کہا ہے "امریکی فوج یمن میں القاعدہ نواز جنگجوئوں کے خلاف فضائی کارروائیوں میں بھی تیزی لے آئی ہے اور حالیہ ہفتوں میں چار مختلف جگہوں پر القاعدہ ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔"

ڈیوس نے بتایا کہ "امریکی فوجیوں کی ایک بہت محدود تعداد یمنی اور عرب فوج خصوصا اماراتی فوجیوں کے ساتھ مل کر یمن کے ساحلی شہر المکلاء کے قریب کام کر رہی ہے۔" یاد رہے کہ المکلاء کا شہر ایک سال قبل القاعدہ کی مقامی شاخ کے محاصرے میں آگیا تھا۔

امریکی ترجمان نے فوجی کی موجودگی پر مزید وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ "یہ ہمارے مفادات کے لئے لازمی ہے۔ اگر کسی دہشت گرد تنظیم کی جانب سے ساحلی شہر کا قبضہ سنبھال لیا تو یہ ہمارے مفادات کو شدید دھچکا لگے گا اور ہم اسی کو روکنے کے لئے تعاون کررہے ہیں۔"

ان کا مزید کہنا تھا کہ ہم اماراتی فوجی حکام کو "انٹیلی جنس سپورٹ" فراہم کر رہے ہیں مگر انہوں نے اس بات کی تصدیق یا تردید کرنے سے انکار کیا کہ یہ فوجی سپیشل آپریشن گروپ سے تعلق رکھتے ہیں یا نہیں۔

القاعدہ نواز تنظیم کے جنگجو حکومت کے آپریشن کی وجہ سے المکلاء اور دیگر علاقوں سے فرار ہوگئے ہیں۔ زمین پر موجود فوجیوں کے ساتھ ساتھ امریکا یمن میں اپنے اتحادیوں کو فضاء میں تیل بھرنے کی سہولیات، سرویلنس، منصوبہ بندی، سمندری حفاظت اور طبی امداد فراہم کرتا ہے۔

پینٹاگون نے ایک وقت میں یمن میں سپیشل آپریشنز فورسز کے 100 افراد کو یمنی فوج کی مشاورت کے لئے تعینات کررکھا تھا مگر پچھلے سال ملک میں شروع ہونے والی خانہ جنگی کے نتیجے میں ان تمام فوجیوں کو واپس بلالیا گیا۔

پینٹاگون نے مزید اعلان کیا کہ اس کی جانب سے حالیہ ہفتوں کے دوران القاعدہ کے خلاف فضائی کارروائیوں میں بھی تیزی لائی گئی ہے۔ ترجمان کے مطابق "23 اپریل سے اب تک القاعدہ کے خلاف چار فضائی حملے کئے گئے ہیں جس کے نتیجے میں القاعدہ کے 10 جنگجو ہلاک جبکہ دیگر زخمی ہوئے ہیں۔"