.

حلب میں عارضی جنگ بندی میں مزید تین روز کی توسیع

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

روس کی وزارت دفاع نے شام کے جنگ زدہ شمالی شہر حلب میں جمعرات کو طے پائی عارضی جنگ بندی میں مزید تین دن کی توسیع کا اعلان کیا ہے۔

قبل ازیں امریکا اور روس نے متفقہ طور پر جمعرات اور جمعہ کےایام میں حلب میں عارضی سیزفائر پر اتفاق کیا تھا جس کے بعد روس نے اپنی جانب سے مزید تین دن کی توسیع کا اعلان کیا ہے۔ امریکا کی جانب سے اس اعلان کا خیر مقدم کیا گیا ہے۔

روسی وزارت دفاع کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ حلب میں جنگ بندی میں توسیع کا فیصلہ شہر میں ابترانسانی صورت حال کے پیش نظرکیا گیا ہے اور مجموعی طورپر جنگ بندی کا عرصہ پانچ دن کردیا گیا ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ جنگ بندی میں توسیع کا فیصلہ حلب اور اللاذقیہ گورنری میں بھی لاگو ہوگا۔

درایں اثناء امریکا نے شام میں جنگ بندی سے متعلق ایک بیان میں کہا ہے کہ واشنگٹن زیادہ سے زیادہ وقت کے لیے جنگ بندی برقرار رکھنے کے لیے کوشاں ہے اور اس سلسلے میں روس کے ساتھ بھی رابطے قائم ہیں۔

روس کی جانب سے جنگ بندی میں توسیع اور امریکا کی جانب سے اس کی حمایت کا اعلان ایک ایسے وقت میں کیا گیا جب دوسری جانب شامی رجیم جنگ بندی توڑنے کی بار بار کوشش کررہی ہے۔ شامی اپوزیشن گروپوں کے خلاف کارروائی کی آڑ میں اسدی فوج جنگ بندی ختم کرنے کے لیے پرتول رہی ہے۔

امریکی وزارت خارجہ کے ترجمان جان کیربی کا کہنا ہے کہ حلب کی صورت حال پر امریکی اور روسی حکام چوبیس گھنٹے ایک دوسرے سے رابطے میں ہیں۔ ماسکو اور واشنگٹن کے درمیان مسلسل رابطوں کا مقصد حلب میں فائر بندی برقرار رکھنا ہے۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ امریکا حلب میں زیادہ سے زیادہ وقت کے لیے جنگ بندی برقرار رکھنے کا پابند ہے اور ہم 48 گھنٹے کے سیز فائر کو مزیدتوسیع دینے کے لیے کوششیں کررہے ہیں۔