.

غلطی سےاکاؤنٹ میں لاکھوں ڈالرآجائیں توآپ کیا کریں گے؟

فضول خرچ ملائیشین طالبہ نے تین ملین ڈالر ایک سال میں اڑا دیے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اگرکسی روز آپ کی آنکھ کھلے اور آپ کو پتا چلے کہ غلطی سے آپ کے اکاؤنٹ میں لاکھوں ڈالر آگئے ہیں تو پہلے پہلے آپ ان پیسوں کو خرچ کرنے اور پسندید کی چیزیں خریدنے کا پلان بنائیں گے۔ ایسا ہی ایک واقعہ ملائیشیا کی اسٹریلیا میں زیرتعلیم ایک اکیس سالہ طالبہ کے ساتھ بھی پیش آیا ہے جس کے اکاؤنٹ میں غلطی سے 46 لاکھ ڈالر کی رقم منتقل ہوئی۔ پاکستانی کرنسی میں یہ رقم چھیالیس کروڑ سے زاید بنتی ہے۔ مگر فضول خرچ لڑکی نے یہ خطیر رقم ایک سال کے اندر اندر اپنے اللے تللوں پر خرچ کرڈالی۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق چار سال پیشتر جب آسٹریلیا کے ایک بنک کی غلطی سے ملائیشین طالبہ کریسٹن جاکسن لی کے بنک اکاؤنٹ میں لاکھوں ڈالر منتقل ہوگئے تو اس نے وہ رقم ’مال مفت دل بے رحم‘کے مصداق ایک سال کے اندر اندر اڑا کر رکھ دی۔ تب جاکسن کی عمر سترہ سال تھی۔ اکاؤنٹ میں بھاری رقم آنے کےبعد اس نے بنک انتظامیہ کو اس بارے میں مطلع کرنے کے بجائے گراں قیمت چیزیں اور دنیا کے مہنگے ترین برانڈ کے لیڈیز بیگ سمیت دیگر اشیا خرید کرنا شروع کردیں اور ایک سال سے بھی کم وقت میں تین ملین سے زاید کی رقم اللے تللوں پر اڑا دی۔

برطانوی اخبار’’ڈیلی میل‘‘ کے مطابق لی جاکسن کو حال ہی میں سڈنی کے ہوائی اڈے سے اپنے ملک واپس جاتے ہوئے پولیس نے حراست میں لیا ہے اور اس سے فوری طورپر بنک کو 3.3 ملین ڈالر کی رقم ادا کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔

لی جاکسن آسٹریلیا میں کیمیکل انجینیرنگ کی طالبہ ہیں۔ انہوں نے بنک میں بھاری رقم منتقل ہونے کے بعد سڈنی میں ایک مہنگا فلیٹ کرائے پرحاصل کیا جس کا ہفتہ وار کرایہ 780 ڈالرادا کیا جاتا رہا ہے۔

ملائیشن طالبہ کے خلاف آسٹریلیا کی ایک عدالت میں مقدمہ قائم کیا گیا ہے اور اس پررقم کو غیرقانونی ذریعے سے حاصل کرنے اور اسے بے دریغ خرچ کرنے کے ساتھ دھوکہ دہی جیسے الزمات کا سامنا ہے۔