شام میں یرغمال تین ہسپانوی صحافی 10 ماہ بعد رہا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

شام میں دس ماہ قبل اغواء ہونے والے تین اسپانوی صحافیوں کو رہا کریا دیا ہے۔ ہسپانوی حکام نے تینوں صحافیوں کی رہائی کی تصدیق کی ہے اور کہا ہے کہ رہا ہونے والے تینوں صحافی محفوظ مقام پر ہیں اور وہ جلد ہی اپنے ملک میں واپس آ جائیں گے۔

ہسپانوی حکومت کے ترجمان نے میڈریڈ میں ایک نیوز کانفرنس سے خطاب میں کہا کہ تینوں یرغمالی صحافیوں خوسے مانویل لوبیز، انخیل ساتری اور انطونیو باملیگا کو دس ماہ پیشتر شمالی شام کے حلب شہر سے اغواء کیا گیا اتھا۔

بعد ازاں اے ایف پی سے ٹیلیفون پربات کرتے ہوئے ترجمان ے کہا کہ رہائی پانے والے تینوں صحافی بہ خیریت ہیں اور وہ جلد ہی اپنے گھروں کو لوٹ آئیں گے۔

درایں اثناء اسپین میں صحافتی یونین کی چیئرپرسن ایلسا گونزالیس نے فرانسیسی خبر رساں ایجنسی سے بات کرتے ہوئے تینوں یرغمالی صحافیوں کی بازیابی پر خوشی اور اطمینان کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تیوں صحافی رہائی کے بعد ایک محفوظ مقام پر ہیں اور وہ اگلے چند گھنٹوں کے اندر اندر اپنے گھروں کو واپس آ جائیں گے۔

شام میں انسانی حقوق کی رصدگاہ کے مطابق تینوں صحافیوں کو 13 جولائی 2015ء کو حلب کی المعادی کالونی سے یرغمال بنایا گیا تھا۔ یہ کالونی شامی اپوزیشن کے قبضے میں ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیم کا کہنا تھا کہ تینوں صحافیوں کو نامعلوم مسلح افراد ایک گاڑی سے اتار کرنا معلوم مقام پر لے گئے۔

یرغمالی صحافی اسپین کے مختلف نشریاتی اور اشاعتی اداروں سے وابستہ ہیں۔ ان میں ’اے بی سی‘ ٹیلی ویژن،’لاراثون‘، ’کواٹرو‘ ٹی وی اور ’اونڈا سیرو‘ ریڈیو خاص طور پر شامل ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں