.

حوثیوں کی بے پروائی، یمن مذاکرات تعطل کا شکار

کویت کی یمن امن بات چیت کو بچانے کی مساعی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

کویت کی میزبانی میں یمنی حکومت اور باغیوں کے درمیان جاری امن بات چیت ایک پھر تعطل کا شکار ہوگئی ہے۔ العربیہ ٹی وی کے ذرائع کے مطابق کویتی حکومت نے یمن میں جاری بحران کے حل کے لیے بات چیت کو ناکام ہونے سے بچانے کے لیے کوششیں تیز کردی ہیں۔ اس سلسلے میں کویتی وزیر خارجہ نے یمنی حکومت کے وفد سے بات چیت کی ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق یمنی حکومت کے کویت میں موجود وفد نے ملک میں امن وامان کی بحالی کے عمل کی نگرانی کرنے والے اٹھارہ دوست ملکوں کے سفیروں سے ملاقاتیں کی ہیں اور انھیں اپنا موقف پیش کیا ہے۔ یہ ملاقاتیں ایک ایسے وقت میں ہوئی ہیں جب حکومت اور باغیوں کے درمیان سیکیورٹی، سیاسی مسائل اور قیدیوں کی رہائی کے لیے قائم کردہ ذیلی کمیٹیاں باغیوں کی عدم دلچسپی کے نتیجے میں ناکام ہوگئی ہیں۔

باغیوں کے نمائندے کمیٹیوں کے اجلاسوں میں شریک نہیں ہو رہے ہیں جس کے نتیجے میں امن عمل متاثر ہو رہا ہے۔ حکومت اور باغیوں کی قائم کردہ کمیٹیوں کا پانچواں اجلاس آج شام ہوگا۔ اقوام متحدہ کے امن مندوب نے تمام فریقوں سے اجلاس میں شرکت یقینی بنانے پر زور دیا ہے۔

اس دوران کویتی نائب وزیراعظم اور وزیرخارجہ نے یمنی حکومت کے وفد سے تفصیلی ملاقات کی ہے۔ اس ملاقات میں یمن میں کشت وخون روکنے اور تمام حل طلب مسائل کے حل اور ملک میں دیرپا امن استحکام کے لیے فریقین کے درمیان ہم آہنگی پیدا کرنے کی کوشش کی ہے۔

العربیہ کے ذرائع کا کہنا ہے کہ گذشتہ روز یمنی حکومت اور باغیوں کے درمیان تنازعات کے حل کے لیے قائم کردہ کمیٹیوں کے اجلاس ہوئے مگرباغیوں کا کوئی نمائندہ ان اجلاسوں میں شریک نہیں ہوا جس کے باعث اجلاس بغیر کسی بات چیت کے ناکامی سے دوچار ہوگئے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ اقوام متحدہ کے امن مندوب اسماعیل ولد الشیخ احمد نے حکومتی وفد کو یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ باغیوں کو تینوں کمیٹیوں کے اجلاسوں میں شرکت پر قائل کرنے کی کوشش کریں گے۔اتوار کی شام ہونے والے اجلاس میں اقوام متحدہ کے ایلچی کی کوششوں کے باوجود باغیوں کا کوئی نمائندہ شریک نہیں ہوا۔

یمنی حکومت کے مقرب ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت اور باغیوں کے درمیان اختلافات کی خلیج اب بھی بہت گہری ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ذیلی کمیٹیوں کےاجلاس بھی بغیر کسی پیش رفت کے ناکامی سے دوچار ہو رہے ہیں۔