.

مصر: پولیس پر دہشت گردانہ حملے کی ویڈیو جاری

پراسیکیوٹر جنرل نے فوٹیج کی تحقیقات شروع کردیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر میں گذشتہ روز حلوان کے مقام پر پولیس پارٹی پر دہشت گردی کے حملے کی مبینہ فوٹیج سامنے آنے کے بعد فوٹیج کی روشنی میں تحقیقات شروع کردی ہیں۔ خیال رہے کہ حلوان کے مقام پر دہشت گردی کے حملے میں آٹھ پولیس اہلکار ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے تھے۔

جنوبی قاہرہ کے پراسیکیوٹر نے حلوان میں دہشت گردی کے حملے کی فوٹیج کی روشنی میں تحقیقات شروع کردی ہیں۔ حکام اس فوٹیج کے درست ہونے کے حوالے سے بھی چھان بین کررہے ہیں۔

خیال رہے کہ کلوز سرکٹ کیمرے کی مدد سے بنائی گئی فوٹیج میں چار مسلح افراد کو پولیس کی ایک گاڑی کے قریب نقل وحرکت کرتے دیکھا جاسکتا ہے۔ اسی دوران ان میں سے ایک شخص پولیس کی گاڑی پر چڑھتے ہی اندھا دھند فائرنگ کردیتا ہے جس کے نتیجے میں موقع پر موجود آٹھ پولیس اہلکار ہلاک ہوجاتے ہیں۔

فوٹیج پرغور کرنے سے ظاہر ہوتا ہے کہ فائرنگ ہوتے ہی پولیس وین کے قریب لوگ اور گاڑیاں وہاں سے پیچھے کی طرف بھاگنے کی کوشش کرتے ہیں۔ پولیس حکام نے جائے وقوعہ سے گولیوں کے 120 خالی خول بھی جمع کیے ہیں جنہیں ملزمان کے ڈی این اے کی شناخت میں مدد کے لیے تفتیشی ٹیم کے حوالے کردیا گیا ہے۔

دوسری جانب وزارت داخلہ کے معاون برائے اطلاعات میجر جنرل ابو بکر عبدالکریم نے جائے وقوعہ سے داعش کا پرچم ملنے کی تردید کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ تفتیشی حکام عینی شاہدین کے بیانات قلم بند کررہی ہے۔ اس کے علاوہ دہشت گردوں کے زیراستعمال اسلحے کی روشنی میں بھی تحقیقات کی جا رہی ہیں۔

عمر رضا نامی ایک عینی شاہد نے بتایا کہ اس نے حلوان کے النصر اسپتال کے باہر چار منٹ تک فائرنگ کی آوازیں سنیں۔ جس کے بعد اس نے حلوان پولیس کے ایک عہدیدار محمد حامد کو شدید زخمی حالت میں اسپتال منتقل کرنے میں مدد کی۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ وہ کسی حملہ آور کی شناخت نہیں کرسکے ہیں۔