.

ڈالر کے سامنے لیرہ کمزور ۔۔۔۔ شامی غربت کی لکیر سے نیچے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی ڈالر کے مقابلے میں شامی کرنسی لیرہ کی قدر میں واضح کمی ہوئی ہے، جس کی مثال اس سے قبل نہیں ملتی۔ اس وقت ایک ڈالر 512 لیرہ کے برابر ہو چکا ہے، جس کے نتیجے میں شام میں معاشی بحران کئی گنا بڑھ گیا ہے اور ملک میں کرنسیوں کے بھاؤ پر بلیک مارکیٹ کا کنٹرول ہے۔ یاد رہے کہ شامی حکومت غیرملکی کرنسی کے ذخائر فوج اور ملیشیاؤں پر خرچ کر چکی ہے۔

شام کے مرکزی بینک نے 2011 کے وسط میں اعلان کیا تھا کہ ملکی معیشت کے تحفظ اور کرنسی کے بھاؤ کو گرفت میں رکھنے کے لیے اس کے پاس 18 ارب ڈالر ہیں۔ تاہم آج پانچ برس بعد ڈالر کے مقابلے میں لیرہ کی قدر 13 گنا کم ہو چکی ہے۔

رواں سال مئی کے آغاز پر مرکزی بینک نے ایک ڈالر کے بدلے 512 لیرہ کا بھاؤ مقرر کیا جو 2011 میں ایک ڈالر کے مقابل 48 لیرہ تھا۔

معیشت کے ماہرین کے خیال میں حلب میں لڑائی کے پھر سے زور پکڑ جانے نے لیرہ کی قدر میں نئی گراوٹ میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ اس کے علاوہ لڑکھڑاتی معیشت سے ٹیک لگائے مرکزی بینک لیرہ کی حفاظت کرنے میں ناکام ہو چکا ہے۔ گزشتہ پانچ برسوں کے دوران بشار الاسد کی حکومت نے شام کے شہروں پر مسلط کردہ اپنی جنگ میں بتدریج اربوں ڈالر کے ذخائر کو ُلٹا دیا۔ اس کے نتیجے میں تاجر اور کاروباری حضرات کا لیرہ پر اعتماد ختم ہو گیا اور اس کے بعد بلیک مارکیٹ ہی انفرادی طور پر کنٹرولر بن گئی۔

مرکزی بینک میں ایک ڈالر کے 512 لیرہ کے مقابل بلیک مارکیٹ ایک ڈالر کے بدلے 625 لیرہ پیش کر رہی ہے جو کہ 20% زیادہ ہے۔ اس امر کی عسکری اور سیاسی پہلوؤں سے زیادہ خطرنات پرچھائیاں ہیں کیوں کہ یہ شامیوں کی روز مرہ زندگی سے متعلق ہے اور اس کی وجہ سے معیشت کے ایسے سنگین بحرانات سامنے آرہے ہیں جن کی مثال ماضی میں نہیں ملتی۔

مثال کے طور پر 2011 میں شام میں ملازمین کی اوسط تنخواہ 20 ہزار لیرہ تھی جو اس وقت 400 ڈالر کے برابر تھی۔ تاہم لیرہ کی قدر میں شدید گراوٹ کے سبب آج 20 ہزار لیرہ تقریبا 40 ڈالر کے برابر ہیں۔ شامی حکومت نے سرکاری سیکٹر کے ملازمین کی تنخواہوں میں 100% کا اضافہ کر دیا یعنی کہ اب شام میں اوسط تنخواہ محض 80 ڈالر کے قریب ہے۔ ایسے ملک میں جہاں درآمدات پر انحصار کئی گنا بڑھ چکا ہے اور اشیاء کی قیمتیں تقریبا مکمل طور پر ڈالر کے ساتھ مربوط ہوگئی ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ شام میں سرکاری سیکٹر کے ملازمین کے گھرانے غربت کی بین الاقوامی لکیر کے نیچے زندگی گزار رہے ہیں۔