.

یمن امن مذاکرات غیر معیّنہ مدت کے لیے ملتوی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

کویت میں جاری یمن امن مذاکرات غیر معیّنہ مدت کے لیے ملتوی کردیے گئے ہیں۔العربیہ نیوز چینل کی رپورٹ کے مطابق اتوار کو حوثی ملیشیا کے نمائندے بات چیت میں شریک نہیں ہوئے جس کے بعد اقوام متحدہ کے ایلچی نے مذاکرات ملتوی کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

یمن کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی اسماعیل ولد شیخ احمد نے قبل ازیں تعطل دور کرنے کی غرض سے کویت میں یمن کے متحارب فریقوں کے ساتھ الگ الگ بات چیت کی تھی۔اس سے ایک روز پہلے یمنی حکومت کے وفد نے براہ راست مذاکرات کا بائیکاٹ کردیا تھا اور یہ موقف اختیار کیا تھا کہ ان مذاکرات میں کوئی پیش رفت نہیں ہورہی ہے۔

عالمی ایلچی کے ترجمان شربیل راجی نے بتایا کہ اتوار کی سہ پہر کمیٹیوں کے اجلاس بلانے پر غور کیا جارہا تھا۔حکومتی وفد کے ایک قریبی ذریعے نے بتایا ہے کہ مذاکرات باغیوں کے ابتدائی نکتے سے انحراف کے بعد تعطل کا شکار ہوئے ہیں اور اس سے صورت حال بہت ہی پیچیدہ ہوگئی ہے۔

کویت میں 21 اپریل سے جاری مذاکرات کے دوران میں حوثی وفد اور ان کے اتحادیوں نے دوسرے ایشوز کے حل کے لیے آگے بڑھنے سے پہلے قومی اتفاق رائے سے عبوری حکومت کے قیام پر اصرار جاری رکھا تھا جبکہ یمنی حکومت کے وفد نے حوثی ملیشیا سے ہٹھیار ڈالنے اور دارالحکومت صنعا سمیت زیرقبضہ علاقوں کو خالی کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔

حوثیوں نے ملک کے جنوب میں القاعدہ کے جنگجوؤں کے خلاف برسرپیکار امریکی فورسز کے ایک چھوٹے دستے کے انخلاء کا بھی مطالبہ کیا تھا۔

اسماعیل ولد شیخ احمد نے جمعرات کو ایک بیان میں بتایا تھا کہ متحارب فریقوں نے سیاست اور سکیورٹی سے متعلق بڑے ایشوز پر تبادلہ خیال شروع کردیا ہے تاکہ ملک میں گذشتہ تیرہ ماہ سے جاری جنگ کا خاتمہ کیا جاسکے۔متحارب فریقوں کے ورکنگ گروپوں نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 2216 کے تحت سیاسی اور سلامتی سے متعلق امور کے حل،قیدیوں اور زیر حراست افراد کی رہائی کے لیے بھی تبادلہ خیال کیا تھا لیکن وہ کسی نتیجے تک نہیں پہنچ سکے تھے۔