امیر جماعت اسلامی بنگلہ دیش کو پھانسی دے دی گئی

ڈھاکا میں سکیورٹی کے سخت انتظامات ،جیل کے باہر پولیس کی اضافی نفری تعینات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

بنگلہ دیش کے دارالحکومت ڈھاکا میں امیرجماعت اسلامی مطیع الرحمان نظامی کو 1971ء میں مبینہ جنگی جرائم میں ملوّث ہونے کے جرم میں پھانسی دے دی گئی ہے۔

امیر جماعت اسلامی کو بنگلہ دیش کے ایک متنازعہ ٹرائبیونل نے 1971ء میں جنگی جرائم میں ملوّث ہونے الزامات میں قصور وار قرار دے کر سزائے موت سنائی تھی اور ملک کی عدالتِ عظمیٰ نے بھی اگلے روز یہ فیصلہ برقرار رکھا تھا۔

بنگلہ دیشی حکام نے سوموار کی شب مطیع الرحمان نظامی کو عدالت عظمیٰ کا یہ فیصلہ پڑھ کر سنایا تھا۔اس کے بعد انھیں ڈھاکا کی سنٹرل جیل میں منتقل کردیا گیا تھا جہاں انھیں منگل کی نصف شب سے چندے قبل تختہ دار پر لٹکا دیا گیا ہے۔اس موقع پر سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے اور شہر سے باہر واقع جیل کے ارد گرد پولیس کی اضافی نفری تعینات کی گئی تھی۔

بنگلہ دیش کے قانون اور انصاف کے وزیر انیس الحق نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ تہتر سالہ لیڈر نے ملک کے صدر سے رحم کی اپیل کرنے سے انکار کردیا تھا جس کے بعد انھیں رات گیارہ بج کر پچاس منٹ اور بارہ بجے کے درمیان پھانسی دے دی گئی ہے۔

قبل ازیں سینیر جیلر جہانگیر کبیر نے صحافیوں کو بتایا کہ جماعت اسلامی کے امیر نے عدالتِ عظمیٰ کا فیصلہ سننے کے بعد یہ نہیں کہا تھا کہ وہ صدر سے رحم کی اپیل کریں گے۔انھوں نے مزید بتایا ہے کہ عام طور پر سزائے موت کے قیدیوں کو حتمی فیصلے کی اشاعت کے بعد صدر سے رحم کی اپیل کے لیے چوبیس گھنٹے کا وقت دیا جاتا ہے۔

مصلوب لیڈر کے وکلاء نے گذشتہ ہفتے کہا تھا کہ وہ کسی سے کوئی معافی نہیں چاہتے ہیں۔اگر وہ اس کے لیے کوئی درخواست دیتے ہیں تو اس کا یہ مطلب ہوگا کہ جن جرائم میں انھیں قصور وار قرار دیا گیا ہے،وہ ان کے فی الواقع مرتکب ہوئے تھے۔

واضح رہے کہ دسمبر 2013ء کے بعد سے جماعت اسلامی کے تین سینیر قائدین اور حزب اختلاف کی مرکزی جماعت بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کے ایک لیڈر کو جنگی جرائم میں ملوث قرار دے کر تختہ دار پر لٹکایا جا چکا ہے۔

مطیع الرحمان نظامی سنہ 2000ء میں جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے امیر منتخب ہوئے تھے۔انھوں نے 2001ء کے انتخابات میں بی این پی کے ساتھ مل کر انتخابی اتحاد تشکیل دیا تھا اور اس کی عام انتخابات میں کامیابی میں اہم کردار ادا کیا تھا۔وہ وزیراعظم بیگم خالدہ ضیاء کی قیادت میں اس حکومت میں وزیر رہے تھے۔

مصلوب امیر جماعت اسلامی کو متحدہ پاکستان کی حامی ملیشیا البدر کا بانی لیڈر قراردیا جاتا تھا۔انھیں بنگلہ دیش کی جنگی جرائم کی خصوصی عدالت نے اکتوبر 2014ء میں 1971ء میں پاکستان سے علاحدگی کی جنگ کے دوران قتل ،آبروریزی اور دوسرے جنگی جرائم کے الزامات میں قصور وار قرار دے کر سزائے موت سنائی تھی۔ان کی ملیشیا البدر پر الزام عاید کیا گیا تھا کہ اس نے مبیّنہ طور پر سابق مشرقی پاکستان کے بنگلہ دیش بننے کے حامی پروفیسروں ،ڈاکٹروں ،لکھاریوں اور صحافیوں کا قتل عام کیا تھا۔

انسانی حقوق کی تنظیمیں بنگلہ دیشی وزیر اعظم شیخ حسینہ کی حکومت کے قائم کردہ جنگی جرائم کے اس متنازعہ ٹرائبیونل کے فیصلوں پر کڑی تنقید کرچکی ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ اس عدالت میں مقدمات کی سماعت انصاف کے عالمی معیار کے مطابق نہیں کی جارہی ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے امیر جماعت اسلامی کی پھانسی روکنے کا مطالبہ کیا تھا لیکن بنگلہ دیشی حکومت نے یہ مطالبہ نہیں مانا۔

اس عدالت کے متنازعہ فیصلوں کے ردعمل میں بنگلہ دیشی معاشرے میں سیکولر اور مذہبی حلقوں میں تقسیم گہری ہوتی جارہی ہے اور اب تک انتہاپسند جنگجو متعدد سیکولر کارکنان ،بلاگروں اور ماہرین تعلیم کو موت کے گھاٹ اتار چکے ہیں۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ جماعت اسلامی کے قائدین کی پھانسیوں سے ملک میں تشدد کی نئی لہر جنم لے سکتی ہے اور امن وامان کی صورت حال مزید خراب ہوسکتی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں