''ترکوں کا بغیر ویزا سفر، یورپی یونین وعدہ ایفا کرے''

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ترک صدر رجب طیب ایردوآن نے کہا ہے کہ یورپی یونین ترکوں کو زیادہ سے زیادہ اکتوبر تک پاسپورٹ فری شنیجین کے علاقے میں ویزا فری سفر کی سہولت مہیا کرے۔

ترک صدر نے منگل کے روز ایک نشری تقریر میں کہا ہے کہ ''ہم سے اس سال اکتوبر تک کا وعدہ کیا گیا ہے۔مجھے امید ہے کہ وہ اپنے وعدے کی پاسداری کریں گے اور اکتوبر تک اس ایشو کو حل کر لیں گے''۔

ترکی کے سبکدوش ہونے والے وزیراعظم احمد داؤد اوغلو نے قبل ازیں ترکوں کے بغیر ویزا یورپی ممالک میں داخلے کے لیے جون تک کی ڈیڈلائن تجویز کی تھی اور یورپی یونین کو خبردار کیا تھا کہ وہ ترکوں کے یورپی ممالک میں بغیر ویزا سفر سے متعلق معاہدے کی پاسداری کرے ۔دوسری صورت میں ترکی اس معاہدے کے تحت غیر ملکی تارکین وطن کو واپس لینے سے متعلق اپنے وعدوں کو پورا نہیں کرے گا۔

احمد داؤد اوغلو نے واضح کیا کہ ترکی وہی کرے گا ،جس کا اس نے وعدہ کیا ہے اور جن امور کے اس کے ساتھ وعدے کیے گئے ہیں،وہ ان میں سے کسی میں کوئی رعایت نہیں دے گا۔

ترکی اور یورپی یونین کے درمیان شامی مہاجرین کی آبادکاری سے متعلق 18 مارچ کو ایک معاہدہ طے پایا تھا۔اس کے تحت ترکی کی علاقائی حدود سے تنظیم کے رکن ممالک میں غیر قانونی طور پر داخل ہونے والے شامیوں اور دوسرے افراد کو ترکی میں واپس بھیجا جارہا ہے۔اس کے بدلے میں ترک شہریوں کو اکتوبر 2016ء سے یورپی ممالک میں بغیر ویزا سفر کی اجازت ہوگی۔

اس معاہدے کے تحت یورپی یونین کی جانب سے ترقی کو 2018ء کے اختتام تک ستائیس لاکھ شامی مہاجرین کی میزبانی کے لیے چھے ارب ڈالرز یورو کی قسط وار امداد بھی دی جائے گی۔ترکی ایشیا اور یورپ کے سنگم پر واقع ہے۔اس کے علاقے سے ہر سال ہزاروں غیر قانونی تارکین وطن سرحد عبور کرکے یونان میں داخل ہوتے ہیں۔یورپی یونین یہ مطالبہ کرتی رہی ہے کہ ترکی ان ہزاروں غیر قانونی تارکین وطن کو پکڑے جانے کی صورت میں واپس لے۔

مقبول خبریں اہم خبریں